Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
686 - 1040
حدیث نمبر686
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر یہ مجبوری نہ ہوتی کہ مسلمان لوگوں کے دل خوش نہیں ہوتے مجھ سے پیچھے رہ جانے سے ۱؎ اور ہم اتنی سواریاں پاتے نہیں جو ان سب کو دیں ۲؎  تو ہم  کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتے   جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے  ۳؎ اور اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں پسند کرتا ہوں کہ اﷲ کی راہ میں قتل کیا جاؤں پھرزندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیاجاؤں ۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی غریب و فقیر مسلمانوں کے دل نہیں چاہتے کہ بے سواری ہونے کی وجہ سے میرے ساتھ جہاد میں نہ جائیں گھر بیٹھے رہیں کیا،تمہیں خبر نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ایک جہاد میں تشریف لے گئے تھے، حضرت طلحہ ٹھیک دوپہر کی تیز دھوپ میں سفر سے مدینہ منورہ اپنے باغ میں پہنچے جہاں وہ کھانا،پانی،ٹھنڈا سایہ ان کے منتظر تھے مگر جب سنا کہ حضور غزوۂ تبوک میں گئے ہوئے ہیں سواری سے نہ اترے،اس طرف سواری ہانک دی رضی اللہ عنہ،فرمایا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اﷲ کے محبوب تپتی ریت میں ہوں اور میں گھنے درختوں کے سایہ میں ہوں۔

۲؎ یعنی ہمارے پاس اتنی سواریاں ہی نہیں کہ ہر جہاد میں ہم سب مسلمانوں کو ان پر سوار کرکے جہاد کے میدان میں پہنچادیں وہ پیچھے رہ جانے پر راضی نہیں سب کو ساتھ لے جانے کا موقع نہیں۔

۳؎ سریہ وہ چھوٹا لشکر ہے جس میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لے جائیں یعنی اگر یہ دشواری نہ ہوتی تو ہم کسی معمولی اور بڑے لشکر کے پیچھے نہ رہتے ہر لشکر کے ساتھ جاتے ہر جہاد میں شریک ہوتے۔معلوم ہوا کہ جہاد عمومًا فرض کفایہ ہوتا ہے کبھی فرض عین۔یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے امت پر بڑے  رحیم وکریم ہیں کہ مساکین کے رنج وغم کا لحاظ فرماکر کبھی جہاد  جیسے مرغوب چیز کو چھوڑدیتے، حضور نے امت کی تکلیف کا لحاظ فرماتے ہوئے بہت سی عبادات نہ کیں جیسے ہمیشہ تراویح اور تہائی رات گزارنے پر نماز عشاء وغیرہ۔

۴؎ اس سے دو مسئلہ معلوم ہوئے:کہ راہ خدا میں شہادت بڑی اعلیٰ عبادت ہے کہ حضور انور بار بار شہادت پانے کی تمنا فرماتے ہیں۔دوسرے یہ کہ ناممکن نیکی کی تمنا بھی ثواب ہے رب تعالٰی نے خبر دے دی تھی کہ کوئی کافر حضور کو شہید نہ کرسکے گا"وَاللہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ"یہ بھی خبر دی ہے کہ بعد موت کوئی دنیا میں واپس نہ آئے گا انھم لا یرجعون۔ان خبروں سے معلوم ہو چکا تھا کہ حضور کی شہادت ناممکن ہے اور بار بار دنیا میں آنا شہید ہونا بھی محال ہے مگر حضور اس کی تمنا آرزو کرتے رہے ۔کیوں؟ اس لیے کہ یہ تمنا ثواب ہے امید صرف ممکن کی ہوسکتی ہے مگر آرزو تمنا ہرممکن اور ناممکن چیز کی جاسکتی ہے۔
Flag Counter