۱؎ غالب یہ ہے کہ سبیل سے مراد راہ جہاد سے اسی لیے مؤلف یہ حدیث جہاد کے بیان میں لائے۔ہوسکتا ہے کہ اس جہاد سے طلب علم،عمرہ و حج کے تمام سفر مراد ہوں مگر پہلی توجیہ زیادہ صحیح ہے کہ اگلا مضمون اس کی تائید کررہا ہے اور رب کی یہ ضمانت کرم کی ضمانت ہے۔
۲؎ چونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تصدیق تمام رسولوں کی تصدیق ہے اس لیے اس جملے میں ارشاد ہوا جس کے پاس سو ہیں اس کے پاس ساری اکائیاں دہائیاں ہیں۔
۳؎ او ادخلہ کاعطف ارجعہ پر ہے یعنی اگر غازی جیت کر لوٹا تو غنیمت و ثواب سب کچھ لے آیا،اگر شکست کھا گیا تو ثواب کے ساتھ لوٹا،اگر شہید ہوگیا تو جنت میں گیا ہر طرح نفع میں ہے۔مثل مشہور ہے کہ لٹ گئے تو روزہ،لوٹ لائے تو عید،مار آئے تو غازی،مر گئے تو شہید۔