۱؎ قانت بنا ہے قنوت سے،احادیث میں قنوت چند معنے میں استعمال ہوا ہے اطاعت،عاجزی،نماز،دعا،عبادت، قیام۔نماز کا قیام خاموشی۔یہاں قانت سے مراد عابد ہے یا قائم یا نمازی یعنی مجاہد غازی اگرچہ آرام کرے سوئے یا کوئی جائز کام کرے ثواب عبادت ہی پائے گا کیونکہ سفر جہاد ہی تو ہے جیسے روزہ ہر وقت منہ میں رہتا ہے اس لیے رزہ دار ہوتے ہوئے بھی عابد ہے،ایسے ہی اس سفر میں بہرحال غازی رہتا ہے اس لیے کھاتے پیتے سوتے جاگتے عابد ہوتا ہے۔غازی کو بھی چاہیے کہ اس سفر میں ناجائز حرکت نہ کرے اﷲ رسول سے شرم کرے،حضرات صحابہ رضی اللہ عنھم کی بحالت جنگ حالت یہ ہوتی تھی کہ منہ میں قرآن ہاتھ میں تلوار۔
۲؎ خیال رہے کہ یہ تشبیہ ثواب میں ہے نہ کہ عمل میں لہذا حدیث پر یہ اعتراض تھا کہ ہمیشہ روزے رکھنا اور تمام رات نماز قرآن پڑھنا بالکل نہ سونا تو ممنوع ہے کہ وہاں ممانعت اسی لیے تو ہے کہ انسان تھک کر بیمار ہوجائے گا پھر فرائض وواجبات سے بھی جاتا رہے گا،اگر کوئی شخص ہمیشہ کے روزے ساری رات نماز سے تھکن محسوس نہ کرے تو اس کے لیے ممانعت بھی نہیں۔اس لیے اس افصح الفصحاء صلی اللہ علی وسلم نے نہ تھکنے کے قید لگادی کہ فرمایا لا یفتر۔
۳؎ یعنی یہ ثواب صرف میدان جنگ میں رہنے کے اوقات سے خاص نہیں بلکہ جاتے آتے سفر میں بھی ملتا ہے گھر واپس پہنچنے تک یہ ثواب ہے جہاد کرنے کا ثواب علیٰحدہ ۔