Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
683 - 1040
کتاب الجھاد

جہاد کا بیان ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ جہاد بنا ہے جہدٌ سے جہد جیم کے پیش سے یا فتحہ سے بمعنی مشقت ہے۔شریعت میں جہاد بالکسر کے معنی ہیں کفار کے مقابلہ میں مشقت کرنا یا تلوار سے لڑ کر غازیوں کی مدد کرکے مال سے یا رائے سے یا ان کے ساتھ جاکر ان کی جماعت بڑھاکر۔جہاد کا درجہ اسلام میں بہت بڑا ہے عام مؤمن اپنا مال،وقت یا کوشش اﷲ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں،مجاہد اپنی جان سے دین اسلام کی خدمت کرتا ہے،جان بڑی پیاری چیز ہے اس لیے مجاہد خدا کو بڑا پیارا ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ عبادات الہیہ پرہمیشگی کرنا بھی جہاد اعظم ہے بلکہ نماز کی پابندی جہاد سے افضل ہے کہ جہاد تو نماز قائم کرنے کے لیے ہی کیا جاتا ہے۔جہاد حسن لغیرہ ہے اور نماز حسن بعینہ ہے۔(مرقات)حق یہ ہے کہ عام حالات میں نماز جہاد سے افضل ہے مگر بعض خصوصی حالات میں جہاد نماز سے افضل ہوتا ہے، اسی وجہ سے بعض احادیث میں نماز کو جہاد پر مقدم فرمایا گیا ہے اور بعض احادیث میں جہاد کو نماز پر مقدم فرمایا گیا۔اس جگہ اشعۃ اللمعات میں فرمایا ہے کہ عام مردوں کی روح ملک الموت قبض کرتے ہیں اور شہیدوں کی روح کو خود رب تعالٰی براہ راست قبض فرماتا ہے۔(اشعہ)شہید کے اور فضائل ان شاءاﷲ آئندہ بیان ہوں گے۔
حدیث نمبر683
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو ایمان لایا اﷲ پر اور اس کے رسول پر ۱؎ اور نماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے ۲؎ اسے جنت میں داخل کرنا اﷲ کے ذمہ ہے۳؎ خواہ اﷲ کی راہ میں جہاد کرے یا اپنی اس زمین میں بیٹھ رہے جس میں پیدا ہوا ۴؎ لوگوں نے عرض کہ کیا ہم لوگوں کو خوشخبری نہ دے دیں ۵؎ فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں ۶؎ جو اﷲ نے ان کے لیے تیار کیے ہیں جو اس کی راہ میں جہاد کریں ۷؎ دو درجوں کے درمیان وہ فاصلہ ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے ۸؎ جب تم اﷲ سے مانگو تو فردوس مانگو وہ جنت کا درمیان اور جنت کا اعلیٰ حصہ ہے ۹؎ جس کے اوپر اﷲ کا عرش ہے وہاں سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں۱۰؎ (بخاری)
شرح
۱؎ قرآن مجید اور حدیث شریف میں رسول سے مراد حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہوتے ہیں اور اﷲ رسول پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ رب نے جو کچھ بھیجا اورحضور جو کچھ لائے ان سب پر ایمان لائے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ حقیقتًا ایمان ہے اﷲ رسول کو ملانا،اﷲ رسول میں فرق کرنا کفر ہے،قرآن کریم فرماتاہے:"اَنۡ یُّفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اللہِ وَرُسُلِہٖ وَیَقُوۡلُوۡنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَکْفُرُ بِبَعْضٍ وَّیُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوۡنَ حَقًّا"۔ملانے کے معنے ہماری کتاب اسلام کی چار اصطلاحوں میں دیکھو۔

۲؎ چونکہ نماز روزہ تمام عبادات میں افضل ہیں،نیز ان کا پابند دوسری عبادات بھی بفضلہ تعالٰی باآسانی ادا کرتا ہے ان وجوہ سے یہاں صرف ان ہی دونوں کا ذکر فرمایا اور ہوسکتا ہے کہ اس فرمان عالی کے وقت زکوۃ و حج فرض نہ ہوئے ہوں اس لیے ان کا ذکر نہ فرمایا گیا ہو یا حج و زکوۃ کی فرضیت صرف مالداروں پر ہے روزہ نماز سب پر۔

۳؎ یعنی حق تعالٰی کے وعدے کی بنا پر جو اس نے وعدہ فرمایا،داخلہ سے مراد اولی داخلہ ہے ورنہ جنت کا مطلق داخلہ تو صرف ایمان سے ہوگا یا بلندی درجات کے ساتھ داخلہ ان اعمال سے ہوگا کیونکہ جنت کا داخلہ ایمان سے ہوگا وہاں درجات اعمال صالحہ سے ہے۔

۴؎ مرقات نے فرمایا کہ اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ارشاد فتح کے دن یا اس کے بعد ہے کہ فتح سے پہلے ہجرت فرض تھی اور یہاں وطن پیدائش میں رہنے کی اجازت ہے مگر فتح سے پہلے صرف مکہ معظمہ سے یا جہاں کفار کا غلبہ تھا وہاں سے ہجرت فرض تھی اسلامی شہروں سے ہجرت کرنا فرض نہ تھی۔اس سے بھی معلوم ہورہا ہے کہ عام حالات میں جہاد فرض کفایہ ہوتا ہے بعض خصوصی حالات میں فرض عین ہوجاتا ہے۔

۵؎ یہ عرض کرنے والے حضرت معاذ ابن جبل جیساکہ ترمذی میں ہے وہاں یہ بھی ہے کہ حضور نے فرمایا چھوڑ دو کہ لوگ عمل کریں۔خیال رہے کہ ایسی احادیث حضرات صحابہ نے اپنی وفات کے وقت اس خوف سے بیان فرمادیں کہ وہ علم چھپانے کے الزام میں نہ آویں لہذا یہ اعتراض نہیں کہ جب حضور انور نے منع فرمادیا تھا تو ان حضرات نے ایسی احادیث روایت کیوں فرمادیں۔

۶؎ ترمذی میں ہے کہ ہر درجہ اتنا وسیع ہے کہ ان میں سے ایک درجہ میں عالمین جمع ہوجائیں تو سب کو کافی ہوجاوے۔

 ۷؎ مجاہدین سے مراد نمازی حاجی اورنفس سے مجاہدہ کرنے والے سب ہی ہیں۔(مرقات)بشرطیکہ یہ کام رضائے الٰہی کے لیے ہوں جیسا کہ فی سبیل اﷲ سے معلوم ہوا۔

۸؎ یعنی پانچ سو سال کا راہ یہ سو درجے مجاہدین فی سبیل اﷲ کے لیے خاص ہیں لہذا مجاہدہ کرو تاکہ یہ درجہ پاؤ۔

۹؎ اوسط سے مراد ہے افضل اور اعلیٰ سے مراد سب سے اونچا ہے لہذا اوسط اور اعلیٰ ہی میں تعارض نہیں۔

۱۰؎ یعنی فردوس کی چھت عرش اعظم ہے اور فردوس سے جنت کی چاروں نہریں پانی،دودھ،شراب طہور اور شہد کی نہریں اصولًا یہاں سے نکلتی ہیں۔
Flag Counter