Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
682 - 1040
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر682
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن زبیر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے قطعی حکم دیا کہ دونوں فریق حاکم کے سامنے بٹھائے جائیں ۱؎(ابو داؤد)
شرح
۱؎ اس زمانہ میں حکام مسندوں پر بیٹھے تھے اس لیے فریقین کو ان کے سامنے بٹھایا جاتا تھا،اب حکام کرسی پر بیٹھے ہوتے ہیں اس لیے فریقین اور انکے وکیل سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔مقصد یہ ہے کہ حاکم فریقین میں برابری کرے،نشست اورگفتگو دونوں کی یکساں رکھے،کسی ایک کی طرف میلا ن نہ کرے کہ اس سے دوسرے فریق کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ حاکم کے لیے سب سے ضروری چیز فریقین میں برابری برتنا ہے۔(مرقات)یہ بہت مشکل چیز ہے کبھی ایک فریق اعلیٰ منصب والا ہوتا ہے دوسرا فریق معمولی حیثیت کا۔ حاکم اگر اعلیٰ منصب والے کو اپنے پاس بٹھائے دوسرے کوسامنے کھڑا کرے تو یہ جرم ہے اس سے ددسرے فریق کا دل ٹوٹے گا۔خلفاءاسلام کی تواریخ سے ایسے واقعات کا پتہ لگتا ہے کہ معمولی رعایا نے بادشاہ کے خلاف دعویٰ کردیا،قاضی نے سلطان کو طلب کیا تو اسے اور مدعی کو اپنے سامنے ایک ہی کٹہرے میں کھڑا کردیا دوران مقدمہ میں بادشاہ کا کوئی احترام نہ کیا۔
Flag Counter