Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
681 - 1040
حدیث نمبر681
روایت ہے حضرت بہز ابن حکیم سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روای ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو کسی تہمت میں قید کیا ۲؎ (ابوداؤد)اور ترمذی و نسائی نے یہ زیادتی کی پھر اسے چھوڑ دیا ۳؎
شرح
۱؎ آپ بہز ابن حکیم ابن معاویہ ابن حمید قشیری ہیں،تابعین میں سے ہیں،اکثر محدثین آپ کو ثقہ کہتے ہیں مگر مسلم،بخاری نے ان کی روایت اپنی کتاب میں نہ لی،ابن عدی کہتے ہیں کہ ان کی کوئی روایت منکر نہیں۔ (مرقات واشعہ)بعض نے آپ کو صحابی مانا مگر یہ صحیح نہیں۔

۲؎ اس طرح کہ کسی نے جھوٹی گواہی دی،اس کا جھوٹ ظاہر ہوجانے پر اسے قید کردیا۔(مرقات)یا کسی نے اس پر قرض کا دعویٰ کیا یا کسی اور جرم کا الزام لگایا تو حضور نے مدعیٰ علیہ کو تحقیق کے دوران میں قید کردیا،پھر جرم ثابت نہ ہونے پر اسے چھوڑ دیا۔(مرقات و اشعہ)

۳؎ یا تو جھوٹے گواہ کو سزاءً کچھ روز قید کرکے چھوڑ دیا یا جرم ثابت نہ ہونے پر مدعیٰ علیہ کوچھوڑ دیا۔معلوم ہوا کہ قید کرنا بھی احکام شرعیہ سے ہے۔
Flag Counter