Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
680 - 1040
حدیث نمبر680
روایت ہے حضرت عوف ابن مالک سے ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے دوشخصوں کے درمیان فیصلہ فرمایا تو ہارے ہوئے نے جب پیٹھ پھیری تو بولا مجھے اﷲ کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے ۲؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اﷲ تعالٰی عاجز پر ملامت فرماتا ہے لیکن تجھ پر احتیاط لازم تھی ۳؎ پھر جب تجھ پر کوئی چیز غالب آئے تو کہو کہ اﷲ مجھے کافی ہے،وہ اچھا کارسازہے ۴؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ عوف ابن مالک دو ہیں:ایک تابعی،دوسرے صحابی،یہاں صحابی مراد ہیں جو اشجعی ہیں،غزوہ خیبر میں شریک ہوئے،فتح مکہ کے دن قبیلہ بنی اشجع کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں تھا،آخر میں ملک شام میں رہے،وہاں ہی وفات پائی، ۷۳ھ؁ میں آپ کی وفات ہے،بہت سے صحابہ نے آپ سے روایات لیں۔(اشعہ)

۲؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا فیصلہ جس کے خلاف ہوا تھا اس نے یہ پڑھا جس کا مقصد یہ تھا کہ مدعی نے ظلمًا مجھ سے مال وصول کرلیا ناجائزطور پر،حسرت و غم کے لیے یہ الفاظ کہے جاتے ہیں۔

۳؎  سبحان اﷲ! کیسا پاکیزہ فرمان ہے۔مقصد یہ ہے کہ اولًا خود احتیاط سے کام نہ لینا بعد میں نقصان ہوجانے پر یہ کلمات کہنا اور توکل کرنا رب تعالٰی کو ناپسند ہیں توکل کی حقیقت یہ ہے۔شعر

توکل می کنی دو کارکن 		کسب کن پس تکیہ بر جبار کن

لہذا جب کسی کو قرض دو تو گواہی،تحریر وغیرہ سے اس کی پختگی کرلو،بغیر گواہی تحریر  قرض دے دینا پھر مقدمہ ہار جانے پر توکل کا اظہار کرنا غلط ہے۔

۴؎ یعنی جب تو پوری پوری احتیاط کرلے مگر قضائے الٰہی سے تجھے نقصان ہوجائے تب تو یہ کہہ کر توکل کا اظہار کر تب تیرا توکل درست ہے۔
Flag Counter