۱؎ امام مالک رحمۃ اﷲ علیہ اس حدیث کے ظاہر پرعمل فرماتے ہیں ان کے ہاں دیہاتی کی گواہی شہری آدمی کے خلاف مطلقًا قبول نہیں،دوسرے امام اس کی وجہ بیان فرماتے ہیں کہ اکثر دیہاتی لوگ احکام شرعیہ سے بے خبر ہوتے ہیں،ا نہیں گواہ بننے،گواہی دینے کے مسائل معلوم نہیں ہوتے ان پر بھول چوک غالب ہے،اگر کسی دیہاتی میں یہ خرابیاں نہ ہوں تو اس کی گواہی قبول ہے،بعض نے فرمایا کہ اس حدیث میں لایجوز بمعنی لایحسن ہے یعنی دیہاتی کی گواہی شہری کے خلاف اچھی نہیں کیونکہ دیہاتی کو بوقت ضرورت گواہ بننے یا گواہی دینے کے لیے بلانا مشکل ہوتا ہے مگر یہ حکم جب تھا جب کہ اسباب سفر کم تھے اب نقل و حرکت میں دشواری نہیں۔بہرحال یہ حدیث یا منسوخ ہے یا کچھ قیود سے مقید اور جو وجوہ گواہی قبول نہ ہونے کے عرض کیے گئے وہ مجروح ہیں کیونکہ اگر ان وجوہ سے شہری کے خلاف گواہی جائز یا بہتر نہیں تو شہری کے موافق گواہی کیوں جائز ہے یہ وجوہ تو جب بھی موجود ہیں،غرضکہ سواءامام مالک کے اور کسی امام کے ہاں اس حدیث پر عمل نہیں۔