۱؎ یعنی خیبر میں متعہ حرام کیا گیا تھا پھر ایک سخت ضرورت کے ماتحت جنگ اوطاس میں تین دن کے لیے حلال کیا گیا پھر ہمیشہ کے لیے حرام فرمادیا گیا عرب میں اس قدر زنا عام تھا کہ خدا کی پناہ اسلام کا بڑا معجزہ وہاں زنا بند کرانا ہے ایک دم زنا بند نہ ہوسکتا تھا، اس لیے اس پر پابندی لگانے کے لیے متعہ کی اجازت دی گئی کہ معیادی نکاح کرلو پھر معیاد گزرنے پر نکاح ختم۔اس کے بعد عورت عدت گزارے جس کا خرچہ اور اگر اس نکاح سے بچہ پیدا ہوجائے تو اس کی پرورش اس متاعی مردکے ذمہ، اس پابندی سے بہت حد تک لوگ محتاط ہوگئے پھر ہمیشہ کے لیے متعہ بھی حرام کردیا گیا۔
دیکھو شراب حرام کرنا تھا تو پہلے اس پر پابندی لگائی گئی نشہ میں نماز نہ پڑھو جس سے شراب نوشی بہت حد تک کم ہوگئی پھر ایک دم حرام کردی گئی۔نکاح متعہ قطعًا حرام ہے اس کے بعد جو صحبت ہوگی تو محض زنا ہوگی،جس پر سارے احکام زنا جاری ہوں گے۔متعہ کی حرمت پر قرآنی آیات واحادیث شاہد ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:" مُّحْصِنِیۡنَ غَیۡرَ مُسٰفِحِیۡنَ"اور فرماتا ہے:" فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْعَادُوۡنَ"بیوی و لونڈی کے علاوہ اور کوئی عورت تلاش کرو کہ تم حد سے آگے بڑھنے والے ہو۔ممنوعہ بیوی نہ بیوی ہے نہ لونڈی اس لیے اس کو میراث نہیں ملتی۔اس کی بحث ہماری کتاب فہرست القرآن میں دیکھیئےاور اس جگہ مرقات میں ملاحظہ کیجئے۔ہدایہ میں ہے کہ امام مالک کے ہاں نکاح متعہ حلال ہے اور میعاد کی شرط باطل ہے۔فتح القدیر میں ہےکہ یہ نسبت غلط ہے حق یہ ہےکہ متعہ کی حرمت پر امت رسول کا اجماع ہے۔سیدنا عبد اللہ ابن عباس کو اس کے نسخ کی خبر نہ پہنچی تو اولًا وہ جواز کے قائل رہے خبر پہنچ جانے پر وہ بھی حرمت کے قائل ہوگئے ،دیکھئے مسلم ونووی عبد اللہ ابن عباس کا رجوع۔اس جگہ مرقات میں بھی بیان فرمایا شیعہ کے اکثر فرقے متعہ حرام جانتے ہیں الا البعض۔(مرقات)حضرت ابن عباس کافرمان آگے مشکوۃ شریف میں بھی آرہا ہے کہ متعہ شروع اسلام میں تھا پھرحرام ہوگیا۔