۱؎ متعہ کے لغوی معنی ہیں نفع اسی سے ہے تمتع کرنایہ اسلام میں دو بار حلال ہوا، دوبار حرام۔چنانچہ فتح خیبر سے کچھ پہلے یہ حلال رہا اور خیبر کے دن حرام کردیا گیا پھر فتح مکہ کے سال جنگ اوطاس سے کچھ پہلے تین دن کے لیے حلال کیا گیا،پھر ہمیشہ کے لیے حرام کردیا گیا،لہذا یہ حدیث آئندہ حدیث کے خلاف نہیں۔(از مرقات،نووی و اشعہ وغیرہ)
۲؎ انسیہ یا تو الف کے پیش سے ہے یعنی ا نس و محبت رکھنے والا گدھا یا الف کے کسرہ سے یعنی جسے انسان پالتے ہیں یہ پالتو کی قید وحشی گدھے یعنی گورخر(نیل گائے) کو نکالنے کے لیے ہے کہ وہ ہے حلال ہے اسلام میں پہلے گدھا حلال تھا پھر فتح خیبر کے دن ہمیشہ کے لیے حرام کردیا گیا۔