| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا نہ تو خیانتی مرد کی گواہی جائز ہے نہ خیانتی عورت کی ۱؎ اور نہ زانی مردکی نہ زانیہ عورت کی ۲؎ نہ کینے والے کی اپنے بھائی کے خلاف۳؎ اور رد فرمائی اس کی گواہی جوکسی کے گھر سے گزارہ کرے اسی گھروالوں کے لیے۴؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ اس کی شرح ابھی گزرگئی کہ حق یہ ہے کہ اس سے مراد ہر فاسق اور فاسِقہ ہے۔ ۲؎ کیونکہ زانی فاسق ہے اور فاسق کی گواہی قبول نہیں توبہ کے بعد قبول ہے کہ اب فاسق نہیں رہا۔ ۳؎ یعنی دشمن کی گواہی دشمن کے خلاف قبول نہیں خواہ وہ دشمن سگا بھائی ہو یا دینی بھائی نسبًا اجنبی لفظ اخیہ دونوں کو شامل ہے۔مرقات نے فرمایا کہ یہاں دنیاوی عداوتیں مراد ہیں،دینی اختلاف کی صورت میں مسلمان کی گواہی کافر کے خلاف قبول ہے یوں ہی اگر اسلام کی مختلف جماعتوں کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف گواہی دیں۔ ۴؎ اس کی شرح اور وجہ ابھی اوپر مذکور ہوئی۔