Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
677 - 1040
حدیث نمبر677
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں جائز ہے گواہی خیانت کرنے والے کی اور نہ خیانت کرنے والی کی ۱؎ اور نہ سزا کوڑے مارے ہوئے کی۲؎ اور نہ کینہ والے کی اپنے بھائی کے خلاف۳؎ اور نہ ولاءونسب میں تہمت والے کی۴؎ اور نہ کسی گھر والوں کے خرچہ پر گزارہ کرنے والے کی ۵؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور یزید ابن زیاد  دمشقی راوی منکر الحدیث ہے ۶؎
شرح
۱؎ خیانت ضد ہے امانت کی،کسی کا مال ناحق دبا لینا،خیانت کی بہت صورتیں ہیں یہاں یا تو خیانت سے یہ مال مار لینا مراد ہے یا اس سے ہرفسق و بدکاری مراد۔گناہ کبیرہ کرنا یا گناہ صغیرہ پر اڑ جانا اسے کرتے رہنا فسق ہے اور ہر فسق خیانت ہے کہ اس میں حق اللہ اور حق شرع کا مارنا ہے اس لیے ہر فاسق خائن ہے،مرقات نے یہاں خائن کے یہ ہی معنی کیے یعنی فاسق،اشعۃ اللمعات نے بھی اسی معنی کو ترجیح دی۔مطلب یہ ہے کہ فاسق معلن کی گواہی قاضی کے ہاں قبول نہیں قرآن کریم فرماتاہے:"وَ اَشْہِدُوۡا ذَوَیۡ عَدْلٍ مِّنۡکُمْ"اپنے میں سے دو عادلوں و پرہیزگاروں کو گواہ بناؤ اس لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ شرابی،زانی،چور،داڑھی منڈے وغیرہم فسّاق کی گواہی قبول نہیں اس حکم کا ماخذ یہ ہی حدیث اور یہ ہی آیت ہے۔

۲؎ خیال رہے کہ کوڑوں کی سزا کنوارے زانی کو بھی دی جاتی ہے(سو کوڑے)اور شرابی کو بھی(اسی۸۰ کوڑے) اور پارسا عورت کو زنا کی تہمت لگانے والے کو بھی(اسی۸۰ کوڑے)مگر یہاں مراد یہ تیسرا شخص ہے تہمت کی سزا والا کیونکہ مردود الشہادت صرف یہ ہی شخص ہے نہ کہ پہلے دو،اس پر ساری امت کا اجماع بھی ہے قرآن کریم کی تصریح بھی،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَالَّذِیۡنَ یَرْمُوۡنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاۡتُوۡا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَآءَ فَاجْلِدُوۡہُمْ ثَمٰنِیۡنَ جَلْدَۃً وَّ لَا تَقْبَلُوۡا لَہُمْ شَہٰدَۃً اَبَدًا وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوۡنَ اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا"مگر ہمارے امام اعظم کے ہاں قاذف تہمت لگانے والے کی گواہی توبہ کے بعد بھی قبول نہیں ہمیشہ مردود الشہادۃ رہے گا،مگر امام شافعی کے ہاں بعد توبہ اس کی گواہی قبول ہوگی،وہ فرماتے ہیں الا الذین تابوا کا تعلق لا تقبلوا سے ہے اور ہمارے ہاں اس کا تعلق فاسقون سے ہے یعنی یہ قاذفین فاسق ہیں سواء توبہ کرنے والوں کے،نیز امام شافعی کے ہاں قاذف تہمت لگاتے ہی مردود الشہادت ہے مگر ہمارے ہاں کوڑے لگنے کے بعد یعنی ہمارے ہاں گواہی رد ہونا تہمت کی سزا کا تتمہ ہے،یہ حدیث ان دونوں مسئلوں میں امام اعظم کی دلیل ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے مَجلود یعنی کوڑے لگائے ہوئے کی گواہی مردود قرار دی اور ہمیشہ کے لیے مردود قرار دی توبہ کرے یا نہ کرے۔(مرقات و کتب فقہ)چونکہ اس جملہ کی تائید قرآن کریم سے ہورہی ہے لہذا حدیث کا یہ جزءقوی ہے۔

۳؎ بھائی سے مراد وہ ہے جس کے خلاف گواہی دے رہا ہے اسلامی بھائی چارہ مراد ہے یعنی کینہ پرور اور دشمن کی گواہی دشمن کے خلاف قبول نہیں اگرچہ وہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ یہ بوجہ دشمنی اسے نقصان پہنچانے کے لیے اس کے خلاف جھوٹی گواہی دے گا اس لیے احتیاطًا یہ لازم کردیا گیا۔

۴؎ یعنی جو غلام اپنے کو مولیٰ کے سوائے کسی اور کا آزاد کردہ غلام بتاکر اپنی ولاء اس سے ثابت کرے یوں ہی جو شخص اپنے کو دوسرے خاندان سے منسوب کرے ان کی گواہی قبول نہیں۔آج کل لوگوں کو بناوٹی سید بننے کا بہت شوق ہے ایسے مصنوعی سیدوں کی گواہی مردود ہے یہ فرمان عالی بہت جامع ہے۔عربی میں قانع کہتے ہے سائل کو اور مقنع کہتے ہیں صابر کو جو تھوڑے کھانے پر قناعت کرے،یہاں وہ شخص مراد ہے جو کسی کے گھر رہ کر اس کی عطاء پرگزارہ کررہا ہو،چونکہ اس گھر والے کے حق میں گواہی کا نفع خود اس کو بھی پہنچے گا کہ اس کو جو مال ملے گا اس مال سے اس کو کھانا ملے گا اس لیے گواہی قبول نہیں جو گواہی خود گواہ کو نفع بخش ہو وہ قبول نہیں جیسے باپ کی گواہی اولاد کے حق میں،زوجین کی گواہی ایک دوسرے کے حق میں کہ کوئی قبول نہیں یوں قرض خواہ کی گواہی اپنے مقروض کے حق میں قبول نہیں۔

۵؎ اس میں خادم  تابع لے پالک سب داخل ہیں جوکسی کی روٹی پرگزارہ کرتا ہو اس کی گواہی اس گھر والوں کے حق میں قبول نہیں کہ یہ شخص اپنی پرورش کے لیے اس کے حق میں گواہی دے گا۔

۶؎ اگرچہ یہ حدیث غریب ہے مگر اس کے بعض اجزاء کی تائید قرآن مجید سے ہورہی ہے اور بعض اجزاء کی تائید دیگر احادیث سے،نیز آئمہ دین کا اسی پر عمل ہے ان وجوہ سے یہ قوی ہوگئی۔
Flag Counter