| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت خریم ابن فاتک ۱؎ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز فجر پڑھی،پھر جب فارغ ہوئے تو سیدھے کھڑے ہوئے پھر تین بار فرمایا کہ جھوٹی گواہی اﷲ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے برابر کی گئی ۲؎ پھر یہ آیت تلاوت کی کہ بچو گندگی یعنی بتوں سے۳؎ اور بچو جھوٹی بات سے۴؎ اﷲ کی طرف جھکتے ہوئے اس کے ساتھ شریک نہ کرتے ہوئے ۵؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ خریم خ کے ضمہ سے ر کے فتحہ سے،آپ خریم ابن اخرم ابن شداد ابن عمرو ابن فاتک ہیں،اسدی ہیں، صحابی ہیں،حدیبیہ میں حاضر ہوئے،بدر میں شرکت ثابت نہیں۔ ۲؎ زور بنا ہے زور بالفتح سے جس کے معنی ہیں مائل ہونا،ٹیڑھا ہونا۔اصطلاح میں جھوٹ کو بھی زور کہتے ہیں اور ملمع سازی کو بھی کیونکہ جھوٹا آدمی جھوٹ کی وجہ سے راہِ حق سے ہٹ جاتا ہے ملمع سازی عملی جھوٹ ہے کہ پیتل کو ملمع کرکے سونا دکھایا جاتا ہے یعنی قرآن کریم میں جھوٹی گواہی کو شرک کے ساتھ بیان فرمایا اور اسے شرک کے برابر قرار دیا کیونکہ شرک بھی جھوٹ کی ہی تو قسم ہے۔مشرک کہتا ہے رب دو ہیں یہ قول جھوٹ ہے سمجھتا ہے کہ بت لائق عبادت ہیں یہ اعتقادی جھوٹ ہے،نیز مشرک رب تعالٰی کے خلاف جھوٹ بول کر اس کا حق مارتا ہے اوریہ جھوٹا بندے کے خلا ف جھوٹ بول کر اس کا حق مارتاہے لہذا جھوٹ کو شرک سے بہت تناسب ہے۔ ۳؎ من الاوثان میں من بیانیہ ہے اور اوثان رجسٌ کا بیان جیسے ظاہری پلیدی جسم یا کپڑے کو گندا کرتی ہے ایسے ہی بت پرستی دل کو گندا کرتی ہے۔ ۴؎ مطلب یہ ہے کہ جیسے تم ظاہر گندگیوں سے گھن کرتے ہو ویسے ہی باطن گندگیوں سے گھن کرو،باطنی گندگی بت پرستی اور جھوٹی بات،جسم سے زیادہ دل اور روح کی فکر کرو۔ ۵؎ حنفاء جمع ہے حنیف کی حنیف کے معنی ہیں کسی کی طرف جھکنا،مائل ہونا اور جنیف جیم سےکسی سے الگ ہونا،اس سے مائل ہونا ہے،حنیف وہ ہے جو باطل سے ہٹا ہو حق کی طرف مائل ہو اسی لیے حضرت ابراہیم السلام کو قرآن کریم نے حنیف فرمایا،ان کے صدقہ سے ہر مسلمان حنیف ہے کہ کفر سے ہٹا ہوا ہے ۔