| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت اشعث ابن قیس سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی شخص کے درمیان زمین تھی ۲؎ اس نے انکار کردیا میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لے گیا تو حضور نے فرمایا کیا تیرے پاس گواہ ہیں میں نے عرض کیا نہیں تو یہودی سے فرمایا تو قسم کھا ۳؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ تب تو یہ قسم کھا جائے گا اور میرا مال لے جائے گا۴؎ تب اﷲ نے یہ آیت اتاری بے شک وہ لوگ جو اﷲ کے عہدوپیمان اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت خرید لیتے ہیں ۵؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ آپ کا نام اشعث ابن قیس ابن معدیکرب ہے،کنیت ابو محمدہے،کندی ہیں، ۱۰ھ میں وفد کندہ کے ہمراہ آئے۔حضور کے ہاتھ شریف پر اسلام قبول کیا،اپنی قوم کے سردار تھے،حضور کی وفات کے بعد اپنے قبیلہ کے ساتھ مرتد ہوگئے،پھر خلافت صدیقی میں دوبارہ اسلام لائے،حضرت صدیق اکبر نے اپنی ہمشیرہ کا آپ سے نکاح کردیا،پھر آپ حضرت سعد ابن ابی وقاص کے ساتھ عراق کی جنگ میں گئے اور قادسیہ،مدائن اور نہاوند آپ نے فتح کیے،پھر کوفہ میں قیام رہا، ۴۰ھ میں کوفہ وفات پائی،آپ کی نماز جنازہ امام حسن نے پڑھائی،جنگ جمل اور جنگ صفین میں حضرت علی کے ساتھ صلح کے وقت امیر معاویہ کے ہمراہ رہے۔(اشعہ،مرقات)لہذا آپ امام شافعی کے ہاں صحابی ہیں اور احناف کے ہاں تابعی ہیں کیونکہ ارتداد کی وجہ سے آپ کی صحابیت ختم ہوچکی کہ احناف کے ہاں صحابیت کے لیے مسلسل مؤمن رہ کر وفات پانا شرط ہے۔(ازمرقات) ۲؎ جس میں جھگڑا تھا قابض یہودی تھا جیساکہ آئندہ مضمون سے معلوم ہورہا ہے۔ ۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان مدعی کے مقابلہ میں کافر مدعیٰ علیہ سے قسم لی جائے گی مگر مسلمان مدعیٰ علیہ کے مقابلہ میں کافر مدعی کے کافرگواہ معتبر نہیں کیونکہ قسم دفع کے لیے ہوتی ہے اور گواہی دوسرے پر الزام کے لیے تو کافر کی گواہی مسلمان مدعیٰ علیہ پر الزام نہیں کرسکتی،اس کی بحث کتب فقہ میں ملاحظہ فرمایئے۔ ۴؎ مقصد یہ ہے کہ میں اس قسم کا اعتبار نہیں کرتا کیونکہ یہ کافر ہے اور کافر مسلمان کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹی قسم کھانے میں خوف نہیں کرتے۔ ۵؎ اس آیت میں حضرت اشعب ابن قیس کو تو یہ بتایا گیا کہ تم یہودی سے صرف قسم لینے کے مستحق ہو اب اگر وہ جھوٹی قسم کھائے تو وہ ذمہ دار ہے اور یہودی کو یہ بتایا گیا کہ توریت شریف میں بھی جھوٹی قسم کھانے پر وعید ہے اگر تو نے ایسی جرأت کی تو بحکم توریت تو سخت مجرم ہوگا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حضرت اشعث کے سوال کا جواب اس آیت میں نہ دیا گیا نہ اعتراض ہے کہ آیت قرآنیہ کا اثر اس کافر یہودی پر پڑے گا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مقدمہ میں کافر کی گواہی مسلمان کے خلاف معتبر نہیں کافر کی قسم معتبر ہے۔