| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے انہی سے کہ ایک شخص کندہ کا اور ایک شخص حضرموت کا یہ دونوں اپنا مقدمہ یمنی زمین کے متعلق رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں لائے تو حضرمی بولا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم زمین میری ہے اس کے باپ نے مجھ سے غصب کرلی تھی ۱؎ اور وہ زمین اسی کے قبضہ میں ہے فرمایا کیا تیرے پاس گواہ ہیں ۲؎ عرض کیا نہیں لیکن میں اس سے قسم لوں گا اس پر کہ اﷲ کی قسم وہ نہیں جانتا کہ وہ میری زمین ہے۳؎ کہ اس کے باپ نے وہ مجھ سے غضب کی ہے تب کندی قسم کے لیے تیارا ہوا ۴؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کوئی شخص کسی کا مال جھوٹی قسم سے نہیں مارے گا مگر وہ اﷲ تعالٰی سے کوڑھی ہوکر ملے گا۵؎ تو کندی بولا وہ زمین اسی کی ہے ۶؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی یمن کے علاقہ میں ایک میری مملوکہ زمین تھی اس کے باپ نے اس پر ناجائز قبضہ کرکے مجھے بے دخل کردیا باپ اس کا فوت ہوگیا اس نے بطور میراث اس زمین پر قبضہ کرلیا ہے،اسے خبر ہے کہ اس کے باپ نے میری زمین چھینی تھی مجھے دلوائی جائے،چونکہ اب بظاہر زمین کا مالک وہ ہی تھا اس کے لیے اس پر ہی دعویٰ کیا گیا اگرچہ غصب کا مجرم اس کا باپ تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ پرانے مقدمہ کی بھی سماعت حاکم کو کرنا چاہیے،جرم نیا ہو یا پرانا بہرحال جرم ہے ،یہ بھی معلوم ہوا کہ ناجائز قبضہ ناجائز ہے کوئی شخص ناجائز پرانے قبضہ کی وجہ سے اس کا مالک نہیں ہوجاتا،یہ بھی معلوم ہوا کہ میت کے اپنے مملوکہ مال کی میراث بٹے گی۔امانت،غصب،قرضہ،عاریت میں میراث جاری نہ ہوگی،یہ چیزیں مالکوں کو واپس ہوں گی۔ ۲؎ یعنی اس مقدمہ میں تم مدعی ہو کہ خلاف ظاہر کا دعویٰ کررہے ہو اور یہ شخص بوجہ قابض ہونے کے مدعیٰ علیہ ہے لہذا تم اس غصب کی گواہی پیش کرو۔ ۳؎ یعنی یہ اس واقعہ کو جانتا ہے ورنہ اپنی لاعلمی پر قسم کھا جائے۔ ۴؎ یعنی اس نے قسم کھانا چاہی۔ ۵؎ یہ فرمان عالی اپنے ظاہری معنی پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں،بعض اعمال کا اثر چہرے بلکہ تمام جسم پر قیامت میں نمودار ہوگا،رب تعالٰی فرماتاہے:"یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوۡہٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوۡہٌ"کفروایمان بھی چیزوں سے نمودار ہوگا اور اعمال بدونیک بھی،واقعی ایسا جھوٹا حقیقتًا کوڑھی ہوگا،بعض شارحین نے بلا وجہ کوڑھی ہونے کی تاویلیں کیں کہ وہ حرکت و برکت سے محروم ہوگا وغیرہ۔ ۶؎ سبحان اﷲ! یہ ہے اثر اس زبان فیض ترجمان کا کہ دو کلمات میں اس کے دل کا حال بدل گیا اور سچی بات کہہ کر زمین سے لا دعویٰ ہوگیا۔یہ حدیث فصل اول میں بروایت حضرت علقمہ ابن وائل گزر چکی مگر وہاں یہ ذکر نہ تھا کہ کندی نے کہا یہ اس کی زمین ہے۔