۱؎ اس کا وہ ہی مطلب ہے جو فصل اول کی آخری حدیث کے ماتحت بیان ہوا کہ دو شخصوں نے ایسی چیز کا دعویٰ کیا جو کسی تیسرے شخص کے قبضہ میں تھی اور وہ اس کا مدعی نہ تھا بلکہ کہتا تھا کہ مجھے خبر نہیں کہ اس کا مالک کون ہے اور ان دونوں مدعیوں کے پاس گواہ نہ تھے تب حضور انور نے بذریعہ قرعہ ایک سے قسم لی کیونکہ وہ دوسرے کے حق کا انکاری تھا اور بعد قسم اسے وہ شے دے دی،یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تائید کرتی ہے کہ ان کا مذہب ایسے واقعہ کے متعلق یہ ہی ہے،امام شافعی کے ہاں ایسی حالت میں وہ چیز اس تیسرے کے پاس ہی چھوڑ دی جائے گی اور امام اعظم کے ہاں دونوں مدعیوں میں آدھی آدھی تقسیم ہوگی لہذا ہمارے ہاں یہ حدیث منسوخ ہے اس کی ناسخ وہ حدیث ہے جو ابھی گزری جس میں تقسیم کا ذکر ہے۔واﷲ اعلم!