Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
668 - 1040
حدیث نمبر668
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے کہ دو شخصوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں ایک اونٹ کا دعویٰ کیا پھر ان میں سے ہر ایک نے دو گواہ قائم کردیئے ۱؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان دونوں کے درمیان آدھا آدھا بانٹ دیا ۲؎ (ابوداؤد)اور ابوداؤد کی دوسری روایت اور نسائی اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ دوشخصوں نے ایک اونٹ کا دعویٰ کیا جن میں سے کسی کے پاس گواہ نہ تھے۳؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ اونٹ ان دونوں کے درمیان کردیا ۴؎
شرح
۱؎ چونکہ ان میں سے ہر ایک مدعی تھا کوئی اس اونٹ کا قابض نہ تھا لہذا ان میں سے کوئی مدعیٰ علیہ نہ تھا اس لیے حضور انور نے دونوں کی گواہی قبول فرمائی لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ گواہ صرف مدعی سے لیے جاتے ہیں دونوں سے کیوں لیے گئے،ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی پہلے سے قابض ہوں مگر احتمال اولیٰ قوی ہے کہ اونٹ کسی تیسرے کے قبضہ میں تھا جو نہ اس کا مدعی تھا نہ اسے مالک کی خبرتھی۔

۲؎ اس طرح کہ دونوں کو اس کا مالک مان لیا کہ یا تو یہ دونوں اس اونٹ سے مشترکہ کام لیں یا اس کی قیمت دونوں نصف تقسیم کرلیں۔یہ مطلب نہیں کہ ذبح کرکے دونوں میں تقسیم فرمادیا،ایسے مقدمات میں یہ ہی فیصلہ ہونا چاہیے،یہ جب ہے جب کہ کسی کی گواہی خاص علامت سے قوت نہ پاتی ہو ورنہ علامت والے کی گواہی کو قوت ہوگی اور اس کے حق میں فیصلہ ہوگا۔

۳؎ شاید یہ دوسرا واقعہ ہے،پہلا واقعہ کوئی اور تھا ممکن ہے کہ وہ ہی واقعہ ہو جو ابوداؤد کے حوالے سے مذکور ہوا اور گواہ نہ ہونے کے معنے یہ ہیں کہ دونوں کے پاس گواہ تھے جو تعارض کی وجہ سے ساقط ہوگئے لہذا دونوں کے پاس گواہی مقبول نہ رہی،مرقات نے اخیری توجیہ کو ترجیح دی۔

۴؎ اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ جانور کو مشترک قرار دیا گیا۔
Flag Counter