۱؎ قرن کے لغوی معنی ہیں ملنا،اسی سے ہے اقتران زمانہ اور اہل زمانہ اورگروہ کو قرن اس لیے کہتے ہیں کہ ہم زمانہ اور ایک گروہ کے لوگ ملے ہوئے ہوتے ہیں اس میں گفتگو ہے کہ قرن یعنی زمانہ کس مدت کا نام ہے،تیس سال،چالیس سال،ساٹھ سال،ستر سال اسی۸۰ سال،سو سال آخری قول زیادہ قوی ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک بچہ کے سر پر ہاتھ پھیرکر فرمایا تم ایک زمانہ تک جیتے رہو عشی قرنا تو وہ سو برس جیا۔(مرقات)بعض اہل اﷲ فرماتے ہیں کہ حضرات خلفاءراشدین کا زمانہ حضور انور کا زمانہ ہے،ق میں صدیق کی طرف ر میں حضرت عمر کی طرف ن میں حضرت عثمان کی طرف اور ی میں حضرت علی کی طرف اشارہ ہے۔بعض نے فرمایا کہ حضور کے صحابہ حضور کے قرن ہیں،بعض نے فرمایا کہ جو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات ظاہری شریف میں زندہ تھا وہ حضور کا ہم زمانہ ہے۔(از مرقات واشعہ مع زیادت)خیال رہے کہ زمانہ نبی اور ہے زمانہ نبوت کچھ اور،حضور کا زمانہ نبوت تا قیامت ابدالاباد تک ہے۔جس زمانہ میں لوگ حضور کو دیکھ کر صحابی بنتے تھے وہ زمانہ محدود ہے ورنہ آج بھی زمانہ حضور کا ہے اور ہمیشہ زمانہ حضور کا ہی رہے گا۔
لطیفہ: ایک صاحب نے بدعت کی تعریف کی کہ بدعت وہ ہے کہ جو حضور کے زمانہ کے بعد ایجاد ہوتو ایک عاشق دل شاد نے کہا آج کس کا زمانہ ہے،آج بھی انہیں کا رواج انہیں کا زمانہ ہے،ہم آج کلمہ پڑھتے ہیں محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم،محمد اﷲ کے رسول ہیں اگر یہ زمانہ ان کا نہیں تو"ہیں" کسے کہہ رہے ہو جو ہمارے رسول بھی زندہ ہیں ان کی رسالت بھی قائم دائم ہے۔
۲؎ یعنی تابعین اور تبع تابعین۔خیال رہے کہ صحابی وہ مؤمن انسان ہیں جنہوں نے حضور انور کو ایک نگاہ دیکھا یا ایک آن کے لیے صحبت پائی مگر تابعی وہ لوگ جنہوں نے صحابی کی مستقل صحبت پائی ہو،ایسے ہی تبع تابعین وہ جنہوں نے تابعی کی صحبت پائی ان کا فیض حاصل کیا ہو لہذا امام ابوحنیفہ تابعی ہیں مگر یزید تابعی نہیں کہ اگرچہ وہ صحابی کا بیٹا ہے مگر فیض صحابہ حاصل نہ کرسکا۔اسی لیے یہاں مرقات نے یلونھم کے معنے کیے ای یقربونھم فی الخیر کالتابعین جو صحابہ سے خیر میں قریب ہوں۔
۳؎ یعنی جھوٹی گواہی اور جھوٹی قسموں پر دلیر ہوں گے پرواہ نہ کریں گے کہ اپنی گواہی کی قسم سے ثابت کریں یا جھوٹی قسم کو جھوٹی گواہی سے ثابت کریں دونوں پر حریص ہوں گے۔اس حدیث کی بنا پرحضرت امام مالک فرماتے ہیں کہ جو گواہ قسم کھاکر گواہی دے یا برعکس تو اس کی گواہی رد ہے مگر جمہور آئمہ فرماتے ہیں کہ گواہی رد نہ ہوگی،اس کی تحقیق مرقات شرح مشکوۃ میں ملاحظہ فرمایئے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمانہ صحابہ تمام زمانوں سے افضل ہے،پھر جس قدر زمانہ حضور سے دور ہوجائے گا خیریت کم ہوجاتی جائے گی۔