۱؎ اس حدیث کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ ایک شخص نے کسی جماعت کے خلاف دعویٰ کیا اس کے پاس گواہ نہیں تھے،قسم اس جماعت پر آئی ان میں سے ہر شخص نے پہلے قسم کھانے کی کوشش کی تب قرعہ ڈالا مگر شارحین فرماتے ہیں کہ اس کی صورت یہ ہے کہ دو شخصوں نے کسی چیز کا دعویٰ کیا جو کسی تیسرے کے قبضہ میں ہے،وہ قابض کہتا ہے کہ مجھے پتہ نہیں ان میں سے کس کی ہے ان دونوں مدعیوں کے پاس گواہی نہیں یا دونوں کے پاس گواہی ہے،حضرت علی فرماتے ہیں کہ اس صورت میں قرعہ اندازی کرکے جسکے نام پر قرعہ آئے اس سے قسم لی جائے اسی کو دے دی جائے،امام شافعی کے ہاں اس تیسرے کے قبضہ میں چھوڑ دی جائے،امام اعظم فرماتے ہیں کہ ان دونوں کو نصف دے دی جائے۔واﷲ اعلم!(لمعات،اشعہ،مرقات)قرعہ یا قسم ان پر نہ ہوگی۔