۱؎ آپ صحابی ہیں،جہنی ہیں،آپ کی وفات ۷۸ھ میں ہوئی،پچاسی سال عمر پائی،عبدالملک کے زمانہ میں آپ کی وفات ہوئی۔(اشعہ)
۲؎ شہداء جمع ہے شاھد کی بھی شہید کی بھی یہاں شاہد کی جمع ہے۔
۳؎ اس فرمان عالی کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ کسی کے پاس کسی مدعی کے حق کی گواہی ہے اور مدعی کو اس کی خبر نہیں اگر یہ گواہی نہ دے تو اس کا حق مارا جائے تب اس پر لازم ہے کہ خود مدعی کو خبر دے دے کہ میں تیرے حق کا عینی گواہ ہوں تاکہ اس کا حق نہ مارا جائے،یہ گواہی امانت ہے جس کا چھپانا خیانت ہے۔دوسرے یہ کہ حقوق شرعیہ کی گواہی دینا واجب ہے اگرچہ اس کا دعویٰ نہ ہو جیسے طلاق،عتاق، وقف،عام وصیت کہ ان جیسی چیزوں کی گواہی قاضی کے ہاں ضرور دے اگرچہ اسے طلب نہ کیا گیا ہو،ان دونوں گواہیوں کے متعلق رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اَقِیۡمُوا الشَّہٰدَۃَ لِلہِ"۔چونکہ ان گواہیوں سے حق انسانی اور حقوق شرعیہ وابستہ ہیں لہذا ضرور ادا کرے طلب کا انتظار نہ کرے،رمضان و عید کے چاند کی گواہی ضرور دے،جس حدیث میں بغیرگواہ بنائے گواہی دینے کی برائی ہے یشھدون ولا یستشھدون وہاں جھوٹی گواہی نااہل گواہی مراد ہے۔(لمعات،مرقات و اشعہ)