Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
660 - 1040
حدیث نمبر660
روایت ہے حضرت علقمہ ابن وائل سے وہ اپنے والد سے ۱؎ راوی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک شخص حضر موت کا اور ایک شخص کندہ کا حاضر ہوا ۲؎ حضرمی نے عرض کیا یارسول اﷲ اس نے میری زمین پر قبضہ کرلیا ہے(جبرًا قبضہ)پھر کندی بولا وہ زمین میری ہے اور میرے قبضے میں ہے ۳؎ اس میں اس شخص کا کچھ حق نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرمی سے فرمایا کیا تیرے پاس گواہ ہیں عرض کیا نہیں فرمایا تو تجھے اس کی قسم(ماننا پڑے گی)۴؎ وہ بولا یارسول اﷲ یہ شخص فاسق ہے پرواہ نہیں کرتا کہ کس چیز پر قسم کھائے اور کسی چیز سے یہ احتیاط نہیں کرتا فرمایا تیرے لیے اس کی طرف سے اس کے سوا کچھ نہیں ۵؎ وہ دوسرا قسم کھانے اٹھا تو فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب وہ پھرا ۶؎ کہ اس نے اس کے مال کی قسم کھالی تاکہ اسے ظلمًا کھالے تو وہ اﷲ سے اس حال میں ملے گا اﷲ تعالٰی اس سے غیرمتوجہ ہوگا ۷؎ (مسلم)
شرح
۱؎ یہ علقمہ تابعی ہیں،کوفی ہیں،حضرمی ہیں،ان کے والد وائل ابن حجر صحابی ہیں،علقمہ کو ابن حبان نے ثقہ فرمایا۔

۲؎ حضر موت یمن کا ایک مشہور شہر ہے،کندہ یمن کا ایک قبیلہ ہے کاف کے کسرہ سے۔

۳؎ یعنی حضرمی نے کندی پر غصب کا دعویٰ کیا اور کندی نے جواب دعویٰ کیا اور کندی نے جواب دعویٰ میں اپنے کو اس زمین کا مالک و قابض کہا۔

۴؎ معلوم ہوا کہ ایسی صورت میں قابض مدعیٰ علیہ ہوتا ہے غیر قابض مدعی ہوتا ہے اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرمی سے گواہ طلب فرمائے اور کندی پر قسم عائد کی۔

۵؎ اس سے معلوم ہوا کہ جس مدعیٰ علیہ پر جھوٹ یا فسق کا الزام ہو اس کی قسم معتبر ہے مگر گواہی میں تقویٰ وغیرہ کی پابندی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اَشْہِدُوۡا ذَوَیۡ عَدْلٍ مِّنۡکُمْ"مسلمانوں میں سے دو عادل گواہ بناؤ قسم میں یہ پابندیاں نہیں کیونکہ گواہی الزام کے لیے ہوتی ہے قسم دفع کےلیے۔الزام اور دفع میں بڑا فرق ہے کافر قسم کے ذریعہ اپنے سے مدعی کا دعویٰ دفع کرسکتا ہے۔

۶؎ یعنی قسم کھانے کو مڑا اس کے لیے تیار ہوا،عدالت سے واپسی مراد نہیں۔

۷؎ اور اس پر رحمت نہ کرے گا۔اس حدیث سے چند فائدے حاصل ہوئے:ایک یہ کہ قابض بمقابلہ غیر قابض چیز کا مستحق ہے۔دوسرے یہ کہ اگر مدعیٰ علیہ ا قرار نہ کرے توا س پر قسم کھانا لازم ہے،اگر قسم سے انکارکرے گا تو مدعی کے حق میں فیصلہ ہوگا۔تیسرے یہ کہ مدعی کے گواہ مدعیٰ علیہ کی قسم پر مقدم ہیں اگر گواہ نہ ہوں تو اس سے قسم لی جاوے۔چوتھے یہ کہ دوران مقدمہ میں ایک فریق دوسرے کو فاسق وفاجر وغیرہ الفاظ کہے تو اسے برداشت کرنا پڑیں گے حاکم فسق کا ثبوت نہ مانگے گا بخلاف گواہ کے کہ اگر مدعیٰ علیہ مدعی کے گواہوں کو فاسق کہے تو حاکم ان کی عدالت کی تحقیق کرے گا۔
Flag Counter