Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
659 - 1040
حدیث نمبر659
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلہ فرمایا قسم اور گواہ سے ۱؎ (مسلم)
شرح
۱؎ اس حدیث کے معنی حضرت امام شافعی و احمد و مالک رحمۃ اﷲ علیہم یہ کرتے ہیں کہ مدعی کے پاس ایک گواہ تھا تو حضور نے مدعی سے وہ گواہ قبول فرمالیا اور اس مدعی سے ایک قسم لے لی اور اس ایک گواہ اور ایک قسم پر اس کے حق میں فیصلہ فرما دیا۔چنانچہ ان حضرات کے ہاں ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ کرنا جائز ہے مگر امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک مدعی پر قسم نہیں قسم مدعیٰ علیہ پر ہے،نیز ایک گواہ کافی نہیں،عام حقوق میں دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے اورثبوت زنا کے لیے چار مردوں کی گواہی لازم ہے۔جہاں کہیں ایک کی خبر قبول ہے وہاں وہ خبر ہے گواہی نہیں جیسے رمضان کے چاند کا ثبوت جب کہ آسمان پرگردوغبار ہو،یوں ہی یوسف علیہ السلام کی عصمت کا ایک گواہ کہ وہ شرعی گواہ نہ تھا بلکہ بطور معجزہ ایک شیر خوار بچے نے علامات عصمت کی خبر دی تھی۔خیال رہے کہ مذہب حنفی نہایت ہی قوی ہے اور ان تین آئمہ رضی اﷲ عنہم کا یہ استدلال بہت ہی ضعیف ہے چند وجوہ سے:ایک یہ کہ ان ائمہ کے نزدیک بھی ایک گواہی اور ایک قسم پر فیصلہ صرف مالی مقدمات میں ہوگا۔دوسرے مقدمات میں صرف گواہیاں ضروری ہوں گی لہذا یہ حدیث ان کے معنی کے بھی خلاف ہوگی۔دوسرے یہ کہ اگر اس حدیث کے وہ معنی ہوں جو ان حضرات نے کیے تو یہ حدیث آیت قرآنی کے خلاف ہوگی،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاِنْ لَّمْ یَکُوۡنَا رَجُلَیۡنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتَانِ"اور گواہ دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد دو عورتیں،نیز فرماتا ہے:"وَ اَشْہِدُوۡا ذَوَیۡ عَدْلٍ مِّنۡکُمْ"اپنے میں سے دو  عادل مردوں کو گواہ بناؤ اور خبر واحد کتاب اﷲ کے مقابل عمل ہے۔تیسرے یہ کہ اس معنی سے یہ حدیث ایک متواتر حدیث کے خلاف ہوگی البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر گواہی مدعی پر ہے اور قسم انکاری مدعیٰ علیہ پر وہاں قسم اور گواہی کو تقسیم فرمادیا تو مدعی قسم کیسے کھاسکتا ہے،لہذا احناف کے ہاں اس حدیث کے دو معنی ہیں:ایک یہ کہ یہاں یمین و شاہد سے جنس مراد ہے اور قضا سے عام فیصلے۔معنی یہ ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے عمومًا فیصلے مدعیٰ علیہ کی قسم اور مدعی کی گواہی پر کیے ہیں الہام یا کشف پر نہیں کیے تاکہ امت کے لیے سند رہے۔ دوسرے معنی یہ کہ یہاں قضا و فیصلہ مدعیٰ علیہ کے حق میں مراد ہے یعنی ایک واقعہ میں مدعی کے پاس ایک گواہ تھا اور مدعیٰ علیہ نے قسم کھائی تو حضور نے مدعیٰ علیہ کے حق میں فیصلہ دیا کیونکہ گواہی کا نصاب مکمل نہ تھا ان معانی سے مذکورہ قباحتوں سے میں سے کوئی قباحت نہ رہی۔
Flag Counter