| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
۱؎ چونکہ یہاں بیعت میں عہد کے معنی اور بایعنا میں عہدنا کے معنی ملحوظ ہیں لہذا بیعۃ کا تعدیہ علیٰ سے ہوگیا۔ ۲؎ حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر خود ہم سے زیادہ مہربان ہیں کہ امت پر شفقت فرماتے ہوئے بوقت بیعت صحابہ سے فرماتے ہیں کہ مطلقًا اطاعت کا عہد نہ کرو بلکہ بقدر طاقت اطاعت کا عہدکرو تاکہ کبھی تم بد عہدی میں ماخوذ نہ ہو۔
حدیث نمبر658
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ کی بارگاہ میں بہت ناپسندیدہ شخص زیادہ سخت جھگڑالو ہے ۱؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ الد بنا ہے لدید سے بمعنی سخت جھگڑا،خصم بنا ہے خصومت سے بمعنی بہت جھگڑا دونوں کے مجموعہ کے معنے ہوئے بہت اور سخت جھگڑالو،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَہُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ"یعنی عادی مقدمہ باز آدمی مردود بارگاہ الٰہی ہے۔