| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے پیغام بھیجا کہ اپنے ہتھیار اور اپنے کپڑے پہن لو ۱؎ پھر میرے پاس آؤ ۲؎ فرماتے ہیں کہ میں حضور کے پاس حاضر ہوا حالانکہ آپ وضو کررہے تھے تو فرمایا اے عمرو میں نے تمہیں اس لیے پیغام بھیجا تاکہ تمہیں ایک کام میں بھیجوں۳؎ تمہیں خدا تعالٰی سلامت لوٹائے گا اور غنیمت دے گا۴؎ اور ہم تم کو کچھ مال بھی عطا فرمائیں گے ۵؎ تو میں نے عرض کیا یارسول اﷲ میری ہجرت مال کے لیے نہ تھی ۶؎ وہ تو صرف اﷲ رسول کے لیے تھی۷؎ فرمایا نیک آدمی کے لیے اچھا مال بہت ہی اچھا ہے ۸؎ اسے شرح سنہ میں روایت کیا اور احمد نے اسی کی مثل روایت کی اور ان کی روایت میں یوں ہے کہ اچھا مال نیک آدمی کے لیے اچھا ہے ۹؎
شرح
۱؎ یعنی سفر کی تیاری کرلو کیونکہ اس زمانہ میں بغیر ہتھیار سفر ناممکن تھا،راستے پُرامن نہ تھے یہ سفرجہاد کا نہ تھا ورنہ لشکر آراستہ فرمایا جاتا نوعیت سفر کا ذکر آگے آرہا ہے۔ ۲؎ گھر والوں سے وداع ہوکر کیونکہ تم کو یہاں سے سفر پر بھیج دیا جائے گا۔ ۳؎ اس جگہ وجہ کے معنے اشعۃ اللمعات نے سمت و طرف کیے ہیں اور مرقات نے عمل و کام،ہمارا ترجمہ مرقات کے ماتحت ہے یعنی ہم تم کو کسی جگہ کچھ کام کے لیے بھیجتے ہیں عامل زکوۃ بنا کر یا حاکم بنا کر۔ ۴؎ یہاں غنیمت سے مراد شرعی غنیمت نہیں جو جہاد میں کفار سے حاصل کی جاتی ہے بلکہ اﷲ کی رحمت مراد ہے جو بغیر محنت و شفقت مل جائے ثواب،عزت،رحمت۔ ۵؎ یعنی ثواب عزت کے علاوہ ہم تم کو اجرت و معاوضہ بھی عطا فرمائیں گے یہ حدیث حکام کی تنخواہ کی اصل ہے مقرر اس لیے نہ فرمائی کہ حضور مالک ہیں،غلاموں کو جو چاہیں عطا فرمادیں،یہ محض تنخواہ نہ تھی بلکہ عطیہ شاہانہ بھی تھا اور اب تنخواہ کا مقررکرنا ضروری ہے کہ اجارہ میں کام و مال دونوں مقرر ہونے چاہئیں لہذا حدیث واضح ہے اس پر اعتراض نہیں۔ ۶؎ یعنی میں بغیر معاوضہ یہ خدمت انجام دوں گا کیونکہ میرا اسلام لانا ہجرت کرنا،عہدہ حاصل کرنے بڑی تنخواہ لینے کے لیے نہ تھا۔سبحان اﷲ! یہ تھا اخلاص۔خیال رہے کہ حضرت عمرو ابن عاص ۵ھ میں مکہ سے مدینہ منورہ حضرت خالد ابن ولید کے ساتھ حاضر ہوئے تھے،بیعت کرنے بارگاہ اقدس میں بیٹھے حضور انور نے اپنا ہاتھ بڑھایا کہ پکڑو اور بیعت کرو تو حضرت عمرو نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا حضور انور نے فرمایا یہ کیا،عرض کیا کہ اس شرط پر ایمان لاتا ہوں کہ میرے پچھلے گناہ سارے معاف ہوجائیں،اے عمرو کیا تمہیں خبر نہیں کہ اسلام پچھلے سارے گناہ مٹا دیتا ہے،اسی طرح ہجرت سارے پچھلے گناہ معاف کرادیتی ہے یعنی تم تو اسلام اور ہجرت دونوں سے مشرف ہورہے ہو،حضور فرماتے ہیں کہ دوسرے لوگ تو اسلام لائے مگر عمرو ایمان لائے،دوسری روایت میں ہے کہ عمرو صالحین قریش میں سے ہیں،سنہ کے متعلق محدثین کا اختلاف ہے کہ یہ واقعہ ۵ھ میں ہوا یا ۸ھ میں۔(اشعہ) ۷؎ یعنی اﷲ رسول کو راضی کرنے کے لیے۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور انور کا نام رب تعالٰی کا نام کے ساتھ ملانا شرک نہیں ایمان ہے۔دوسرے یہ کہ عبادت میں رب تعالٰی کی رضا کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی رضا کی نیت کرنا شرک یا ریا نہیں بلکہ اس سے عبادت کی تکمیل ہوتی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاللہُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرْضُوۡہُ"۔تیسرے یہ کہ حضور کی بارگاہ میں حاضر ہونا رب تعالٰی کی بارگاہ میں حاضر ہوجانا ہے کہ مدینہ منورہ کے مہاجر آتے تھے حضور کے پاس اور عرض کرتے تھے ﷲورسولہ،قرآن کریم فرماتاہے:"وَمَنۡ یَّخْرُجْ مِنۡۢ بَیۡتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ"۔ سبحان اﷲ! کیسا پیارا کلام عرض کیا۔ ۸؎ یعنی اس مال کے قبول سے تمہارے ثواب میں کمی نہ ہوگی یہ تو رب تعالٰی کی نعمت ہے۔خیال رہے کہ مرد صالح وہ ہے جو نیکی پہچانے اور کرے اور مال صالح وہ ہے جو اچھے راستہ آئے اور اچھی راہ جائے یعنی حلال کمائی بھلائی میں خرچ ہو،اﷲ تعالٰی نصیب فرمائے۔ ۹؎ مطلب وہ ہی ہے صرف ترتیب بیان میں فرق ہے۔خیال رہے کہ خراب پیٹرول مشین خراب کردیتا ہے اسی طرح خراب غذا انسان کے دل و دماغ،خیال،نیت سب کو خراب کردیتی ہے۔
الفصل الثالث تیسری فصل