| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ لعنت فرمائی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر ۱؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ) اسے ترمذی نے ان ہی سے اورحضرت ابوہریرہ سے روایت کیا۔ اور اسے احمدوبیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ثوبان سے روایت کیا اور یہ زیادہ کیا کہ رائش سے مراد ہے جو ان دونوں کے درمیان کوشش کرے ۲؎
شرح
۱؎ راشی رشوت دینے والا اور مرتشی رشوت قبول کرنے والا،رشوۃ بنا ہے رشاء بمعنی رسی سے،رسی کنویں سے پانی نکالنے کا ذریعہ ہوتی ہے،ایسے ہی رشوت کا مال ناجائز فیصلہ کرانے اور اپنا کام نکالنے کا ذریعہ ہوتا ہے اس لیے اسے رشوت کہتے ہیں۔رشوت کی بہت صورتیں ہیں:حکام کی خصوصی دعوتیں،حکام کو ڈالیاں دینا، انہیں نقد روپیہ یا نیوتہ وغیرہ کے بہانے سے کچھ دینا،یہ سب رشوتیں ہیں۔خیال رہے کہ حق فیصلہ پر بھی فریقین میں سے کسی فریق سے کچھ لینا بھی رشورت ہے کہ حاکم پر حق فیصلہ کرنا شرعًا واجب تھا،پھر رشوت لےکر ناحق فیصلہ کرنا تو خدا کے قہر کا موجب ہے مگر ظلم سے بچنے کے لیے یا حق فیصلہ کرانے کے لیے رشوت دینا جائز ہے ۔حضرت ابن مسعود نے زمین حبشہ کے جھگڑے میں وہاں کے حاکم کو دو دینار دے کر اپنے کو ظلم سے بچایا۔(مرقات) ۲؎ اگر یہ کلام رائش کی تفسیر و شرح ہے تو مطلب یہ ہے کہ یہاں رائش کے معنے رشوت دلوانے والا ہے یعنی حاکم کا ایجنٹ و دلال جو مقدمہ والوں سے خفیہ طور پر حاکم کو رشوت دلواتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ رائش کی تفسیر نہ ہو بلکہ توسیع ہو یعنی رائش میں وہ دلال بھی داخل ہے جو فریقین اور حکام کے درمیان دلالی کرکے رشوت دلاتا ہے۔بینہما میں ھما ضمیر راشی اور مرتشی کی طرف راجع ہے۔خیال رہے کہ حرام کام کی دلالی اس کی کوشش بھی حرام ہے۔