| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو کسی شخص کی کچھ سفارش کردے ۱؎ پھر اسے اس سفارش پر کچھ ہدیہ دیا جائے ۲؎ وہ اسے قبول کرلے تو وہ سود کے دروازوں سے بڑا دروازہ پر آگیا ۳؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ سلطان یا حکام کے پاس مگر سفارش حق کے لیے ہو ظلم کے لیے نہ ہو۔ ۲؎ یعنی مقدمہ والا یا حاجت مند اسے اس سفارش کی بنا پر کوئی چھوٹی یا بڑی چیز بطور ہدیہ دے اور یہ اسے قبول کرے،سفارش کی بنا کی قید یاد رکھنا چاہیے۔ ۳؎ یعنی یہ بھی رشوت ہےاور رشوت کا گناہ سود کے گناہ کی طرح ہے کہ سود خور کو اﷲ رسول سے جنگ کرنے کا اعلان فرمایا گیا ہے"فَاۡذَنُوۡا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ"۔