Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
650 - 1040
حدیث نمبر650
روایت ہے حضرت عدی ابن عمیرہ ۱؎  سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے لوگو تم میں سے جو کوئی ہمارے کام پر عامل بنایا گیا ۲؎  پھر اس میں سے سوئی اور اس کے اوپر کوئی چیز ہم سے چھپائی تو وہ خائن ہے قیامت کے دن وہ لائے گا ۳؎  تو ایک انصاری صاحب کھڑے ہوکر بولے یارسول اﷲ مجھ سے اپنا عمل(نوکری)لے لیجئے ۴؎  فرمایا یہ کیا عرض کیا کہ میں نے آپ کو یہ کہتے سنا فرمایا یہ تو میں کہتا ہوں کہ ہم جسے کسی کام پر عامل بنائیں تو وہ تھوڑا اور بہت حاضر کردے ۵؎  پھر اس میں سے اسے جو دیا جائے وہ لے لے ۶؎  اور جس سے منع کیا جائے اس سے باز رہے۔(مسلم،ابوداؤد)اور لفظ ابوداؤد کے ہیں۔
شرح
۱؎  آپ صحابی ہیں،کندی حضرمی ہیں،کوفہ میں رہے پھر وہاں سے جزیرہ کی طرف منتقل ہوگئے،وہاں ہی وفات ہوئی۔

۲؎  صدقہ وصول کرنے پر عامل بنایا گیا یا کہیں کا حاکم مقرر ہوا۔

۳؎  اس طرح کہ خیانت کا مال اس کے سر پر ہوگا اور قیامت کے دن رسوا ہوگا جیسے زکوۃ نہ دینے والے کا مال خود مالک پر سوار ہوگا جس سے اسے تکلیف بھی ہوگی اور رسوائی بھی،یہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ رب تعالٰی قیامت میں اس امت کے چھپے ہوئے گناہ چھپائے گا،علانیہ گناہ اور بعض دوسرے گناہ جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے ظاہر فرمادے گا لہذا یہ حدیث ان پردہ پوشی کی احادیث کے خلاف نہیں۔

۴؎  ان انصاری کا نام معلوم نہ ہوسکا،یہ کسی جگہ عامل مقرر ہوکر جارہے تھے یہ وعید سن کر اپنے میں اتنی احتیاط کی قوت نہ دیکھی انہوں نے استعفیٰ پیش کیا۔

۵؎  اس کلام کی تکرار مبالغہ اور تاکید کے لیے ہے کہ تم خواہ عمل قبول کرو یا نہ کرو حکم تو یہ ہی رہے گا۔

۶؎ یہ اس صورت میں ہے کہ تنخواہ مقرر نہ ہو سلطان خود اس کے عمل اور اجرت کا اندازہ لگا کر دے،منع کیے جانے سے مراد نہ دیناہے۔
Flag Counter