۱؎ شارحین نے اس حدیث کے معنے یہ کیے ہیں عامل،حاکم بیت المال سے روپیہ لے کر نکاح بھی کرسکتا ہے،غلام بھی خرید سکتا ہے یا نوکر بھی رکھ سکتا ہے، اپنے لئے گھر بھی بنا سکتا ہے مگر یہ حکم اس زمانہ کا ہے جب کہ عامل کی ماہوار یا سالانہ تنخواہ مقرر نہ ہو اور بیت المال میں ان خرچوں کے نکالنے کی گنجائش ہو،حکام کی تبدیلی نہ ہوئی ہو،ایک حاکم ایک جگہ مستقل رہتا ہو،وہ عامل صحابہ کرام کی طرح دیانتدار ہوکہ صرف بقدر ضرورت ہی خرچ کرے زیادہ ایک پیسہ بھی نہ لے لیکن اگر حاکم کو آج کل کی طرح باقاعدہ تنخواہ ملتی ہو تو ان میں سے کوئی خرچ بیت المال سے نہ لے۔اب حکومتیں بعض حکام کو کوٹھی،ملازم کی تنخواہ بلکہ سرکاری دورہ کے مصارف بھی دیتی ہیں،نیز اگر حاکم کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے تو وہ ہر جگہ بیت المال(خزانہ)سے اپنی کوٹھیاں نہ بنوائے لہذا ان حالات میں اب ان چیزوں کی ا جازت نہ ہوگی۔
۲؎ یعنی ایسا حاکم اگر خزانہ کے خرچ پر ایک سے زیادہ نکاح کرے یا ایک سے زیادہ خادم و نوکر رکھے یا قدر ضرورت سے زیادہ مکان بنوائے تو خائن ہے،نیز غیرضروری خرچ کے لیے خزانہ سے کچھ نہ لے۔