| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت معاذ سے فرماتے ہیں مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے یمن کی طرف بھیجا جب میں چل دیا تو میرے پیچھے بلانے والے کو بھیجا تو میں لوٹایا گیا ۱؎ فرمایا کیا تم جانتے ہوکہ میں نے تمہیں کیوں بلایا کوئی چیز میری اجازت کے بغیر نہ لینا کہ وہ خیانت ہے۲؎ جو خیانت کرے گا تو قیامت کے دن خیانت کا مال لائے گا تمہیں اس لیے بلایا تھا اب اپنے کام پر جاؤ ۳؎ (ترمذی)
شرح
۱؎ وہ فرمان عالی سنانے کے لیے جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ ۲؎ اگرچہ یہ فرمان عالی پہلے بھی سنایا جاسکتا تھا مگر دوبارہ واپس لوٹانے اور پھر یہ سوال فرمانے میں کہ بتاؤ ہم نے تم کو کیوں لوٹایا،اہتمام مقصود ہے جو بات اس قدر اہمیت سے سنائی جائے وہ خوب یاد رہتی ہے۔ ۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ حکام اور والیوں کو سلطان اسلام کی طرف سے تقویٰ و طہارت کی نصیحت کرنا سنت ہے۔