Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
641 - 1040
حدیث نمبر641
روایت ہے حضرت ابن موہب سے ۱؎ کہ حضرت عثمان ابن عفان نے جناب ابن عمر سے فرمایا کہ تم لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کرو ۲؎  آپ نے عرض کیا اے امیر المؤمنین مجھے معاف رکھیں گے۳؎  فرمایا تم اس سے نفرت کیوں کرتے ہو حالانکہ تمہارے والد فیصلے فرمایا کرتے تھے۴؎ عرض کیا اس لیے کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو قاضی ہو پھر انصاف سے فیصلے کرے تو اس لائق ہے کہ اس سے برابر برابر۵؎  لوٹے اس کے بعد حضرت عثمان نے دوبارہ نہ فرمایا ۶؎(ترمذی)
شرح
۱؎ آپ کا نام عبداﷲ ابن موہب ہے،تابعی ہیں،حضرت عمر ابن عبدالعزیز کے زمانہ میں ان کی طرف سے فلسطین کے حاکم تھے تقویٰ و طہارت میں مشہور تھے۔(اشعہ)

۲؎  یعنی حکومت عثمانیہ کی طرف سے قاضی القضاۃ کا عہدہ قبول کرلو۔

۳؎  یہ سوال طلب مہربانی کے لیے ہے یعنی کیا میں آپ کے لطف وکرم سے یہ امید کروں کہ آپ مجھے اس عہدے سے معاف رکھیں۔اﷲ اکبر آج ہم عہد ے ڈھونڈھتے ہیں اور ان حضرات کو عہدے ڈھونڈھتے تھے۔

بہ بین تفاوت راہ کجا است تابہ کجا

۴؎  یعنی آپ کے والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ زمانہ رسالت اور زمانہ صدیقی میں بھی لوگوں میں فیصلے فرمایا کرتے تھے خلیفہ تو بعد کو بنے پھر تم قضاء سے کیوں متنفر ہو۔

۵؎ حری بروزن فعیل صفت مشبہ ہے حری بمعنی لائق ہونے کا،ب زائدہ ہے اور بالحری مبتداء ہے اور ان ینقلب اس کی خبر،بعض نسخوں میں حریٰ ح کے فتحہ سے الف مقصورہ ہے مصدر تب یہ خبر مقدم ہے اور بعد کی عبارت مبتداء مؤخر دونوں ترکیبوں کے معنی ایک ہی ہیں۔(لمعات)کفافًا ک کے فتحہ سے کف کا مصدر کفاف کے لغوی معنے ہیں برابر کہ نہ بچے نہ بڑھے جیسے کہتے ہیں لا لی ولا علی یہ ینقلب کے فاعل سے حال ہے،ہوسکتا ہے کہ بمعنی مکفوف ہویعنی اس کی شر سے بچایا ہوا یعنی عادل و منصف قاضی کے لیے یہ ہی غنیمت ہے کہ کل قیامت میں اس کا چھٹکارا ہوجائے کہ نہ پکڑ ہو نہ ثواب ملے۔جب عادل قاضی کا یہ حال ہے تو جو قاضی ایسا ہوکہ قاضی بہ رشوت راضی اس کا کیا حال ہوگا۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان عالی میں وہ قاضی مراد ہیں جو اپنی کوشش سے قضا حاصل کریں لہذا یہ حدیث گزشتہ ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں عادل قاضی کے فضائل بیان ہوئے کہ اس کی اجتہادی غلطی پر اسے ایک ثواب ہے اور درستی پر دوہرا ثواب ،یہ حضرت عبداﷲ ابن عمر کی انتہائی احتیاط ہے کہ حضرت عثمان غنی کی پیش کردہ قضا کو بھی قبول نہیں فرماتے اور اس فرمان عالی کو اپنے جیسے بے نفس متقی ہستی پر چسپاں فرماتے ہیں فتویٰ اور ہوتا ہے تقویٰ کچھ اور۔

۶؎ یعنی حضرت عثمان غنی نے پھر جناب عبداﷲ پر قبول قضاء کے لیے زور نہ دیا۔خیال رہے کہ قضا کی طلب اس کے لیے گناہ تھی اور انصاف کرنا ثواب تو مطلب یہ ہوا کہ ایسا طالب جاہ قاضی اگر عدل و انصاف کرے اور یہ عدل وانصاف اس کے طلب قضا کے گناہ کا کفارہ ہی بن جائے تب بھی غنیمت ہے لہذا حدیث واضح ہے۔
Flag Counter