Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
642 - 1040
حدیث نمبر642
اور رزین کی روایت حضرت نافع سے ان کی روایت ابن عمر سے کہ انہوں نے حضرت عثمان سے کہا اے امیر المؤمنین میں تو دوشخصوں کے درمیان فیصلہ نہیں کروں گا ۱؎ فرمایا تمہارے والد تو فیصلہ کرتے تھے تو عرض کیا کہ میرے والد پر کوئی مشکل بنتی تو وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیتے تھے ۲؎ اور اگر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم پر کوئی چیز مشکل ہوتی تو وہ جبرئیل علیہ السلام سے پوچھ لیتے تھے۳؎ اور میں اسے نہیں پاتا جس سے پوچھوں۴؎ اور میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو اﷲ کی پناہ مانگے تو اس نے بڑے کی پناہ مانگی اور میں نے حضور کو فرماتے سنا کہ جو اﷲ کی پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دو اور میں اﷲ کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ آپ مجھے قاضی بنائیں۵؎ چنانچہ آپ نے انہیں معاف کردیا اور فرمایا کسی کو خبر نہ دینا ۶؎
شرح
۱؎  یعنی قاضی عام بننا تو بہت دور ہے میں تو  پنچ بننے پربھی تیار نہیں،آپ کا یہ فرمان حضرت عثمان غنی کے اس فرمان کے جواب میں ہے جو ابھی گزرا۔

۲؎ اس سے معلوم ہورہا ہے کہ حضرت عمر زمانہ نبوی میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے قاضی یا پنچ مقرر ہوتے تھے،یہاں وہ قضا مراد ہے۔

۳؎ اس طرح کہ آپ حضرت جبریل علیہ السلام سے دریافت فرماتے اور حضرت جبریل رب تعالٰی سے پوچھ کر بتاتے تھے لہذا اس سے یہ لازم نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے حضرت جبریل کا علم زیادہ تھا تمام فرشتوں سے حضرت آدم علیہ السلام کا علم زیادہ تھا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسْمَآءَ کُلَّہَا"اور جناب آدم کا علم حضور کے علم کی نسبت سے ایسا ہے جیسے قطرہ سمندر کی نسبت سے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم اعلم الخلق ہیں اور یہ حضرت عبداﷲ ابن عمر کی رائے عالی ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اجتہاد بھی فرماتے تھے،حضرت معاذ کو بھی اجتہاد کی اجازت تھی آپ نے اپنے کو اجتہاد کے لائق نہ سمجھا یہ انکسار تھا،بہرحال حدیث واضح ہے۔

۴؎ اور خود اجتہادکرنے کی ہمت نہیں کرتا۔

۵؎ یعنی اﷲ کی پناہ لیتا ہوں قضا کے عہدے سے۔اﷲ اکبر! یہ ہے انتہائی احتیاط اور یہ حدیث قضا کی برائی میں انتہائی وعید ہے۔یہاں مرقات نے ابن عساکر سے بروایت حضرت ابی ہریرہ ایک عجیب حدیث مرفوع نقل فرمائی کہ سنگ اسود نے ایک بار بارگاہ الٰہی میں عرض کیا کہ مولیٰ میں نے عرصہ دراز تک تیری عبادت کی اور تو نے مجھے گندگی میں ڈلوادیا(قوم عمالقہ نے سنگ اسود کو کئی سو سال گندگی میں ڈالے رکھا تھا)رب تعالٰی نے فرمایا شکر کر کہ میں نے تجھے کسی قاضی کی مجلس میں نہ رکھا کذا فی جامع صغیر السیوطی۔(مرقات)

۶؎  ورنہ یہ باتیں سن کر کوئی قضاء قبول نہ کرے گا اورمحکمہ عدالت معطل ہوکر رہ جائے گا۔خیال رہے کہ قاضی اسلام بننا فرض کفایہ ہے اور اگر کسی وقت لوگ نااہل ہو جائیں تو اہل کو قاضی بننا فرض عین ہوجاتا ہے،اس زمانہ پاک میں عام مجتہد صحابہ موجود تھے اس لیے حضرت ابن عمر نے یہ عہدہ قبول نہ فرمایا،دیکھو حضرت یوسف علیہ السلام نے جب ملاحظہ فرمایا کہ فی زمانہ کوئی خزائن سنبھالنے کا اہل نہیں تو خود بادشاہ سے فرمایا"اجْعَلْنِیۡ عَلٰی خَزَآئِنِ الۡاَرْضِ"مجھے خزانوں کا منتظم بنادے،اس وقت آپ پر یہ عہدہ سنبھالنا فرض عین ہوگیا تھا لہذا یہ حدیث اس آیت قرآنی کے خلاف نہیں۔
Flag Counter