Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
640 - 1040
حدیث نمبر640
روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی حضرت عمر کی طرف مقدمہ لے گئے ۱؎  تو آپ نے حق یہودی کا دیکھا تواس کے حق میں فیصلہ فرمادیا ۲؎  اس پر آپ سے یہودی بولا اﷲ کی قسم یقینًا آپ نے حق فیصلہ فرمایا۳؎  اسے حضرت عمر نے درہ سے مارا۴؎  اور فرمایا تجھے یہ کیسے معلوم ہوا تو یہودی نے عرض کیا اﷲ کی قسم ہم توریت میں پاتے ہیں کہ ایسا کوئی قاضی نہیں جو حق سے فیصلہ کرے مگر ایک فرشتہ اس کے دائیں ہوتا ہے اور ایک فرشتہ اس کے بائیں طرف ہوتا ہے یہ دونوں اسے ٹھیک رکھتے ہیں اور اسے حق کی توفیق دیتے ہیں ۵؎ جب تک وہ حق کے ساتھ رہے پھر جب حق کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ دونوں چڑھ جاتے اور اسے چھوڑ جاتے ہیں ۶؎(مالک)
شرح
۱؎  یہ مقدمہ حضرت سعید ابن مسیب نے خود دیکھا کیونکہ آپ تابعین سے ہیں،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آپ نے پایا ہے۔

۲؎ یہ ہے عدل فاروقی کہ عدالت میں اپنے پرائے کا لحاظ نہیں اس کا حکم قرآن کریم نے دیا ہے۔خلافت حیدری کے دور میں ایک بار قاضی شریح کی عدالت سے حضرت علی کے مقابل ایک یہودی کو مقدمہ میں ڈگری مل گئی حالانکہ قاضی شریح حضرت علی کے ملازم تھے اس پر یہودی مسلمان ہوگیا اور جنگ صفین میں حضرت علی کی فوج میں وفات پاگیا۔(نورالانوار)

۳؎  یعنی فیصلہ حق و انصاف سے کیا  یا حق تعالٰی کی مدد سے آپ نے ایسا عدل والا فیصلہ کیا ،ایسا فیصلہ کوئی شخص اپنی طاقت سے نہیں کرسکتا  ،دوسرے معنی  زیادہ موزوں ہیں۔

۴؎  درہ مارنے سے مراد اسے درہ سے چھونا ہے کبھی کسی سے بات کرتے وقت اسے ہاتھ یا چھڑی سے چھوتے جاتے ہیں ایذاءوالی مار مرادنہیں۔(اشعہ)

۵؎  اس جواب کا مقصد یہ ہے کہ ا میر المؤمنین آپ نے یہ فیصلہ ان دو فرشتوں کی مدد سے کیا ہے جو آپ کے دائیں بائیں مدد کے لیے ہیں اگر ان کی مدد نہ ہوتی تو آپ مسلمان کے حق میں اور میرے خلاف فیصلہ کرتے کیونکہ مسلمان آپ کا اپنا تھا اور میں غیر تھا۔آپ حاکم حق ہیں لہذا جواب سوال کے بالکل مطابق ہے۔ (مرقات)اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مقرر شدہ فرشتے مدد کرتے ہیں۔دوسرے یہ کہ یہ دونوں فرشتے حاکم کو توفیق خیر دیتے ہیں لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضور ہماری مددکرتے ہیں ہم کو توفیق خیر دیتے ہیں۔

۶؎ اور اس ظالم کو اس کے نفس اور شیطان کے سپردکرجاتے ہیں۔معلوم ہوا اﷲ کے مقبولوں کا کسی کو چھوڑ دینا خدا کا عذاب ہے،اگر ڈول کو کنویں میں رسی چھوڑدے تو ڈول بجائے پانی لانے کے خود کیچڑ میں پھنس جاتا ہے۔اﷲ تعالٰی ہمیشہ اپنے مقبولوں کے سایہ میں رکھے،یہ بھی معلوم ہوا کہ ہماری بدکاریاں سیاہ کاریاں اﷲ کے بندوں کی مدد جاتے رہنے کا سبب ہیں ورنہ وہ حضرات بلا وجہ کسی کو نہیں چھوڑ دیتے وہ تو آخر تک نباہ کرتے ہیں     ؎

لج پال پریت کو توڑت ناہیں 	جوبانھ پکڑیں تو چھوڑت ناہیں 	گھر آئے کو خالی موڑت ناہیں

ہم نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا   ؎

اچھوں کا زمانہ ساتھی ہے میں بد ہوں مجھ کو بنا ہو تم	کہلا کے تمہارا جاؤں کہاں  بیکس  کی کہاں  شنوائی  ہے
Flag Counter