| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے یہاں تک کہ وہ پہلا یا نکاح کرے یا چھوڑ دے ۱؎
شرح
۱؎ یعنی اگر کسی عورت کے کسی جگہ سے پیام و سلام آرہے ہیں اور فریقین قریبًا راضی بھی ہوگئے ہیں تو دوسرا شخص پیام دے کر پہلے کا پیام نہ خراب کرے،جب وہاں سے بات چیت ٹوٹ جائے تب پیام دے یہ حکم استحبابی ہے اور اگر صرف پیام میں رضا مندی نہیں ہوئی تو دوسرا بھی پیام دے سکتا ہے یہ ہی حکم بیع کے متعلق بھی آیا ہے وہاں بھی یہ ہی مراد ہے ورنہ نیلام پر بولی پر بولی دی جاتی ہے اس توجیہ پر یہ حدیث بالکل واضح ہے۔