۱؎ یعنی اگر کوئی بیوی والا شخص کسی عورت کو پیغام نکاح دے تو یہ عورت یہ مطالبہ نہ کرے کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دو تب نکاح کروں گی لہذا بہن سے مراد سوکن بننے والی عورت ہے کیونکہ اسلامی بہن ہے اس میں اخلاق کی تعلیم ہے۔
۲؎ یعنی اس سوکن کا حصہ خود قبضہ کرے اس کا کھانا پینا عیش و آرام پر خود قبضہ کرے۔
۳؎ لِتَنْکِحَ کا لام امر نہیں بلکہ لام کے معنی میں ہے اور یہ جملہ لِتَسْتَفْرِغَ پر معطوف ہے لہذا حدیث کا مطلب واضح ہے،عورت کو سوکن پر نکاح کرلینے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ پہلی کی طلاق کے مطالبہ سے روکا گیا اس لِتَنْکِحَ کا فاعل یا تو خود یہ عورت ہے یا اس کی سوکن یعنی تاکہ وہ شخص پہلی بیوی کو طلاق دے دے اور وہ کسی اور جگہ نکاح کرلے اور ہوسکتا ہے کہ لِتَنْکِحَ کا لام لام امر ہو اور معنی یہ ہوں کہ اس عورت کو چاہیے کہ اس مرد کی پہلی بیوی کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے بلکہ کسی اور سے نکاح کرے۔
۴؎ لہذا پہلی کو طلاق دلوانے سے اس کا اپنا نصیب بدل نہ جائے گا۔