۱؎ اس شرط سے مراد یا مہر ہے یا بیوی کا روٹی کپڑا وغیرہ مگر حق یہ ہے کہ اس سے مراد تمام وہ جائز شرطیں ہیں جو نکاح سے پہلے یا نکاح کے وقت لگائی جائیں۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ اس جگہ خاوند بیوی دونوں سے خطاب ہے یعنی نکاح کے وقت جو شرطیں خاوند کی طرف سے لگیں وہ تو بیوی ضرور پوری کرے، جیسے خاوند کی اطاعت اور اس کی بغیر اجازت گھر سے نہ جانا،جس سے ملنے سے روکے اس سے نہ ملنا اور جو شرطیں عورت کی طرف سے مرد پر لگیں،انہیں مرد ضرور پورا کرے جیسے زیور یا مکان نام کر دینے کی شرطیں یا خاص شرطوں پر تفویض طلاق۔مقصد یہ ہے کہ یوں تو تمام جائز شرطیں اور وعدے ضرور پورے کیے جائیں مگر نکاح کے وعدے ضرور ہی پورے کرنے چاہئیں۔اسی لیے نکاح کے وقت زوجین کو کلمے پڑھاتے ہیں تاکہ کلمہ پڑھ کر وعدے ہوں۔