| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قاضی تین طرح کے ہیں ایک جنت میں اور دو دوزخ میں تو جو جنت میں ہے وہ تو وہ شخص ہے جو حق کو پہچانے پھر اس کا فیصلہ دے ۱؎ اور جو شخص حق کو جان لے مگر فیصلہ میں ظلم کرے تو وہ دوزخ میں ہے ۲؎ اور وہ شخص جو جہالت پر لوگوں کے فیصلے کرے تو وہ بھی دوزخ میں ہے۳؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ جنتی قاضی وہ ہے جس میں تین صفات ہوں:شرعی قواعد و قوانین سے پوری طرح عالم ہو،قضا کے احکام سے خوب واقف ہو،تحقیقات کے بعد فیصلہ کرے ،فیصلہ میں جلدی نہ کرے،حق فیصلہ کرے،اس کو جو حق نظر آئے بعد تحقیق اس کی ڈگری کرے۔ ۲؎ چونکہ یہ حاکم ظالم ہے اس لیے یہ بدترین دوزخی ہے اسی وجہ سے اس کاذکر پہلے فرمایا گیااس کا درجہ دوزخ میں بدتر ہوگاوہاں ٹھہرنازیادہ۔ ۳؎ یا تو قضاء کے شرعی قوانین سے واقف نہ ہو جاہل ہو قاضی بن جائے یا مقدمہ کی نوعیت،حق و ناحق کی تحقیق سے بے خبر ہو اور فیصلہ کردے۔خیال رہے کہ فیصلہ اور فتوی میں فرق ہے،فیصلہ میں فریقین کادعو یٰ اور جواب دعویٰ سننا پھر گواہی وغیرہ لینا پھر قرائن و علامات میں غور کرنا ضروری ہے مفتی کا یہ کام نہیں فتویٰ میں صورت مسئولہ کا جواب ہوتاہے،دیکھو دو فرشتے شکل انسانی میں داؤد علیہ السلام کی خدمت میں آئے ایک نے کہا اس کے پاس ننانوے دُنبیاں ہیں میرے پاس ایک مگر یہ میری ایک بھی لینا چاہتا ہے،آپ نے دوسرے کا جواب دعوی سنے بغیر فتویٰ دے دیا۔ہندہ زوجہ ابو سفیان نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ ابو سفیان بخیل آدمی ہیں مجھے خرچہ پورا نہیں دیتے کیا میں ان کی جیب سے بقدر ضرورت نکال لیا کروں،فرمایا ہاں،ابوسفیان کو نہ بلایا ان سے جواب دعوی لیا،یہ ہے فتوی ،فیصلہ اور فتویٰ کا فرق خیال میں رکھیئے۔