۱؎ اس طرح کہ عملًا قاضی بننے کی کوشش کرے،زبان سے طلب کرے، درخواستیں دے۔ قضا سے مراد مطلقًا حکومت ہے سلطنت ہو یا دوسری حکومت۔(مرقات)مانگنے سے مراد ہے نفسانی خواہش کے لیے مانگنا جیساکہ بارہا عرض کیا جاچکا لہذا یوسف علیہ السلام کا شاہ مصر سے فرمانا:"اجْعَلْنِیۡ عَلٰی خَزَآئِنِ الۡاَرْضِ"اس حکم سے خارج ہے۔
۲؎ یعنی ایسے طالب جاہ حاکم کی مدد اﷲ تعالٰی نہیں کرے گا اسے اس کے نفس کے حوالہ کردے گا اور ظاہر ہے کہ ہمارا نفس ہمارا بڑا دشمن ہے جو لاحول سے بھی نہیں بھاگتا رمضان میں قید نہیں ہوتا۔
۳؎ یعنی ایسے بے نفس قاضی کی بذریعہ فرشتہ مدد ہوتی رہے گی جس سے وہ ظلم وغیرہ سے محفوظ رہے گا۔طبرانی نے بروایت ام سلمہ مرفوعًا نقل فرمایا کہ جو قضا میں مبتلا ہو اسے چاہیے مقدمہ کے دوران فریقین میں برابری کرے جگہ دینے میں،بات کرنے میں،دیکھنے میں،اشارہ کرنے میں اسی طرح بیہقی نے حضرت ام سلمہ سے مرفوعًا روایت کی۔