| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو مسلمانوں کا قاضی بننا طلب کرے حتّی کہ اسے پالے ۱؎ پھر اس کاانصاف اس کے ظلم پر غالب ہو تو اس کے لیے جنّت ہے ۲؎ اور جس کا ظلم اس کے انصاف پر غالب ہو اس کے لیے دوزخ ہے ۳؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ اس حدیث نے ان تمام حدیثوں کی شرح کردی جن میں قضا کی برائیاں ارشاد ہوئیں یعنی خود کوشش کرکے قاضی و حاکم بننے والا۔ ۲؎ عدل کے ظلم پر غالب آنے کے معنی یہ ہیں کہ حاکم کا انصاف اس کے ظلم پر اس طرح غالب آجائے اور اس کی طبیعت پر ایسا چھاجائے کہ اسے ظلم کرنے نہ دے،یہ مطلب نہیں کہ وہ عدل بھی کرتاہو اور ظلم بھی مگر عدل زیادہ کرتاہو اور ظلم کم کیونکہ ایک ظلم بھی ظالم کا بیڑا غرق کرنے کے لیے کافی ہےلہذا حدیث بالکل واضح ہےاس پر کوئی اعتراض نہیں۔(لمعات و اشعۃ اللمعات)یہ توفیق اس حاکم کو ملتی ہے جو حکومت سے متنفر ہو رب کی طرف سےاسے حاکم بننا پڑجائے۔ ۳؎ ظلم کے عدل پر غالب ہونے کی دوصورتیں ہیں: ایک یہ کہ ظلم اس کی عادت بن جائے وہ کبھی انصاف کرے ہی نہیں۔دوسرے یہ کہ ظلم زیادہ کرے انصاف کم،یہ دونوں حاکم دوزخی ہیں۔خیال رہے کہ ایک ظلم بھی کیفیت کے لحاظ سے ہزار انصاف پر غالب ہے اگرچہ کمیت کے لحاظ سے کم ہے،ایک قطرہ پیشاب سارے کنویں کو ناپاک کردیتاہے،یہاں غلبہ ظلم سے مراد کیفیت کاغلبہ ہے لہذا یہ خبر بھی واضح ہے۔شارحین نے اس حدیث کی اور بہت توجیہیں کی ہیں مگر یہ توجیہ قوی ہے۔بعض نے کہا ہے کہ عدل سے مراد اجتہاد کی صحت ہے اور ظلم سے مراد اجتہاد کی غلطی ہے جس حاکم کا اجتہاد و استنباط زیادہ ترکتاب و سنت کے خلاف ہوتاہو بہت کم درست ہوتاہو وہ حاکم نہ بنے اگر بنے گا اور اپنے غلط اجتہاد سے فیصلے کرے گا تودوزخی ہوگا۔مرقات نے اسے ترجیح دی ہے اس کی تائیدگزشتہ حدیث سے ہورہی ہے کہ جو حاکم جاہل ہوکر فیصلے کرے وہ دوزخی ہے۔
حدیث نمبر635
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا ۱؎ تو فرمایا جب تمہیں کوئی مسئلہ درپیش ہو تو کس طرح فیصلے کروگے ۲؎ عرض کیا اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا فرمایا اگر تم اللہ کی کتاب میں نہ پاؤ عرض کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے فیصلہ کروں گا۳؎ فرمایا اگر تم رسو ل اللہ کی سنت میں بھی نہ پاؤ عرض کیااپنی رائےسے قیاس کروں گا ۴؎ اور کوتاہی نہ کروں گا ۵؎ فرماتے ہیں تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا(تھپکی دی)اور فرمایا شکر ہے اس کا جس نے رسول اللہ کے رسول کو اس کی توفیق دی جس سے رسول اللہ راضی ہیں ۶؎ (ترمذی،ابوداؤد،دارمی)
شرح
۱؎ وہاں کا حاکم و قاضی بناکر بھیجا تو بطور امتحان یہ سوال فرمایا۔اس سے معلوم ہوا کہ حاکم و قاضی بنانے کا حق سلطان کو ہے،یہ بھی معلوم ہوا حکومت و قضا سونپنے سے پہلے اس کا امتحان لینا سنت ہے ہے آج بھی قانون پاس کرنے امتحان دینے کے بعد حاکم بنایا جاتا ہے،اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔ ۲؎ سبحان اﷲ! کیا مبارک سوال ہے یہ نہ فرمایا کہ اگر کتاب و سنت میں نہ ہو کیونکہ قرآن و حدیث میں سب کچھ ہے ہم کو ملے یا نہ ملے،نہ ہونا اور ہے نہ پانا کچھ اور،سمندر میں موتی ہیں مگر ہرکسی کو نہیں ملتے۔ ۳؎ فیصلہ کی ترتیب یہ ہے کہ اولًا قرآن کریم سے مسئلہ نکالا جائے مگر حدیث شریف کی روشنی میں اگر حدیث قرآن کریم کے مخالف معلوم ہوتی ہے تو تاویل کرکے ان دونوں میں موافقت کی جائے ،اگر موافقت ناممکن ہو تو اگر حدیث متواتر ہو اور نزول آیت کے بعد کی ہو تو آیت کو منسوخ مان کر حدیث پر عمل کیا جائے جیسے تعظیمی سجدے کی اباحت قرآن سے ثابت ہے مگر حرمت حدیث سے ثابت،تو حدیث پرعمل ہے اور تعظیمی سجدہ حرام ہے،اگر یہ شرائط نہ ہوں تو حدیث چھوڑ دی جائے گی قرآن پرعمل ہوگا جیسے قرآن سے ثابت ہے کہ بالغہ لڑکی اپنے نفس کی مختار ہے،خود نکاح کرسکتی ہے"فَلَا تَعْضُلُوۡہُنَّ اَنۡ یَّنۡکِحْنَ اَزْوٰجَہُنَّ" مگر حدیث سے ثابت ہے کہ بغیر ولی نکاح نہیں کرسکتی"ایماامراۃ نکحت نفسھا نکاحھا باطل باطل باطل۔احناف نے قرآن پرعمل فرماکر عورت کو اپنے نفس کا مختار مانا،اس کی مکمل بحث جاء الحق میں دیکھئے۔ ۴؎ یعنی اگر مجھے حدیث میں بھی نہ ملے اور حضور سے پوچھنے کا موقعہ بھی نہ ملے تو خود اپنے اجتہاد سے فیصلہ کروں گا۔اجماع امت کا ذکر اس لیے نہ فرمایا کہ زمانہ نبوی میں اجماع ناممکن ہے کیونکہ اس زمانہ میں مسئلہ حضور سے پوچھا جاسکتا ہے،قیاس کے لیے نص نہ ملنا کافی ہے مگر اجماع کے لیے نص نہ مل سکنا ضروری ہے۔ ۵؎ یعنی قیاس کرتے وقت نص سے استخراج میں کوتاہی نہ کروں گا۔ؕقیاس شرعی کے معنے ہیں علت مشترکہ کی وجہ سے منصوص حکم کو غیرمنصوص میں جاری کرنا۔ہم سے کسی نے پوچھا کہ باجرے،جوار،چاول میں سود کیسا ہے؟ہم نے کہا کہ گندم وجَو میں سود کی ممانعت حدیث پاک میں ہے اور چاول وغیرہ بھی گندم کی طرح وزن وجنس میں ایک ہیں لہذا ان میں بھی سود حرام،یہ ہے قیاس،صرف رائے مراد نہیں۔اس کی مکمل بحث ہماری کتاب جاءالحق حصہ اول بحث قیاس میں مطالعہ فرمایئے۔ ۶؎ حضور انور کا آپ کے سینہ پر ہاتھ مارنا یا تو شاباش دینے کے لیے یا اپنا فیض آپ کے سینے میں پہنچانے کے لیے کہ اس کی برکت سے رب تعالٰی انہیں خطا سے بچائے۔اس سے معلوم ہوا کہ فقہاء کے اجتہادات و قیاسات بالکل حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی مرضی کے مطابق ہیں اور یہ کہ اصول اسلام صرف قرآن و حدیث نہیں بلکہ قیاس مجتہد بھی ہے۔خیال رہے کہ اصول دین چار چیزیں ہیں:قرآن،سنت،اجماع امت و قیاس،اجماع اور قیاس کا ثبوت قرآن کریم سے بھی ہے،دیکھئے ہماری کتاب جاء الحق۔