۱؎ اس طرح کہ اس نے کوشش و جانفشانی کرکے سلطان سے منصب قضا حاصل کیا،بڑی تنخواہ،عزت ورشوت وغیرہ حاصل کرنے کے لیے یہ شرح خیال میں رہے۔
۲؎ چھری سے ذبح کردینے میں جان آسانی سے اور جلد نکل جاتی ہے،بغیر چھری مارنے میں جیسے گلا گھونٹ کر،ڈبوکر،جلاکر،کھانا پانی بند کرکے ان میں جان بڑی مصیبت سے اور بہت دیر میں نکلتی ہے،ایسا قاضی بدن میں موٹا ہوجاتا ہے مگر دین اس طرح بربادکرلیتا ہے کہ اس کی سزا دنیا میں بھی پاتا ہے اور آخرت میں بھی بہت دراز کیونکہ ایسا قاضی ظلم،رشوت،حق تلفی وغیرہ ضرور کرتا ہے جس سے دنیا اس پر لعنت کرتی ہے اﷲ رسول ناراض ہوتے ہیں،فرعون،حجاج یزید وغیرہ کی مثالیں موجود ہیں۔اس حدیث کی بنا پر حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ نے جیل میں مرجانا قبول فرمالیا مگر قضا قبول نہ فرمائی،رضی اللہ عنہ۔