۱؎ اہل عرب شوال کے مہینہ میں نکاح یا رخصتی منحوس جانتے تھے اور کہتے تھے کہ اس مہینہ کا نکاح کامیاب نہیں ہوتا میاں بیوی کے دل نہیں ملتے۔کہتے تھے کہ شوال بنا ہے شول سے جس کے معنی ہیں مٹانا دور کرنا، زمین پر کھینچنا آپ ان کے اس خیال کی تردید فرمارہی ہیں،بعض روافض بھی دو عیدوں کے درمیان اور محرم میں نکاح کو منحوس مانتے ہیں یہ سب وہم باطل ہے۔(مرقات)
۲؎ مقصد یہ ہے کہ میرا تو نکاح بھی ماہ شوال میں ہوا اور رخصتی بھی اور میں تمام ازواج مطہرات میں حضور کو زیادہ محبوبہ تھی اگر یہ نکاح اور رخصت مبارک نہ ہوتی تو میں اتنی مقبول کیوں ہوتی۔علماء فرماتے ہیں کہ ماہ شوال میں نکاح مستحب ہے۔خیال رہے کہ جناب ام المؤمنین عائشہ صدیقہ بعد خدیجتہ الکبریٰ حضور کو بہت ہی محبوبہ تھیں،آپ کا لقب ہے محبوبہ محبوب رب العلمین،آپ کے ہی سینہ و گود میں حضور کی وفات ہوئی،آپ ہی کے حجرہ میں حضور کا دفن ہوا۔