| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے کہ آپ جب اپنے حکام کو بھیجتے تھے ۱؎ تو ان پر شرط لگاتے تھے کہ ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہونا ۲؎ اور میدہ نہ کھانا اور باریک لباس نہ پہننا۳؎ اور اپنے دروازے لوگوں کی ضرورتوں سے بند نہ کرنا۴؎ اگر تم نے ان میں سے کچھ کیا تو تم پر سزا واقع ہوگی ۵؎ پھر انہیں پہنچانے جاتے تھے۶؎ یہ دونوں حدیثیں بیہقی نےشعب الایمان میں روایت کیں۔
شرح
۱؎ عمال ع کے پیش میم کے شد سے جمع عامل کی بمعنی حاکم اور حکومت کا کارکن،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ الْعٰمِلِیۡنَ عَلَیۡہَا" ۲؎ برذون ب کے کسرہ ر کے سکون اور ذال کے فتحہ سے بمعنی ترکی گھوڑا جو عربی گھوڑے سے گھٹیا ہوتا ہے، اس کی مؤنث برذونہ ہے جمع براذین یعنی اے حاکمو!تم اپنے مقام حکومت میں عربی گھوڑا تو کیا ترکی گھوڑے کی سواری کے عادی نہ ہوجانا،ضرورۃ سوار ہونے کی ممانعت نہیں تھی بلکہ اظہار شان کیلیے گھوڑا پالنا اور فخریہ گھوڑے پر سوار ہوکر نکلنے کی ممانعت تھی اور اس ممانعت میں بہت سی حکمتیں تھیں۔ ۳؎ کیونکہ ان چیزوں سے طبعیت عیش پسند ہوجاتی ہے اور عیش پسند حاکم صحیح طور پر حکومت نہیں کرسکتا اور رعایا کے دکھ درد سے خبردار نہیں رہ سکتا،نیز جب حاکم زیادہ خرچ کرنے کا عادی ہوگا تو وہ خرچ پورا کرنے کے لیے رشوت ستانی حرام خوری کرے گا کیونکہ اس کی تنخواہ ان خرچوں کی متحمل نہیں ہوسکے گی،سادے بنو اور رعایا کو سادہ بناؤ تاکہ زندگی و موت اچھی ہو،کہاں گئے وہ خلفاء اور کہاں گئے وہ حکام۔ ۴؎ یعنی اپنے کو رعایا سے ایسے چھپاکر نہ رکھنا کہ لوگ تم تک پہنچ کر فریاد نہ کرسکیں بلکہ تمہارے دروازے مظلوموں کے لیے کھلے رہیں۔ ۵؎ یعنی تم کو معزول بھی کردیں گے اور سزا بھی دیں گے یا رب تعالٰی تم کو دنیا و آخرت میں سزا دے گا،کس چیز کی سزا،عیش و عشرت میں غافل ہوکر رعایا کی پرواہ نہ کرنا،ظلم کرنا،رشوت خوری کرنا کیونکہ مذکورہ عیش کے یہ نتیجے ہیں لہذا اس فرمان عالی پر یہ اعتراض نہیں کہ گھوڑے کی سواری تو سنت ہے اور میدہ کھانا،باریک کپڑا پہننا جائز ہے اور سنت و جائز کام پر سزا کیسی؟خیال رہے کہ عیش پسند حکام حکومت سے بھاری تنخواہ کا بھی مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ان کے یہ دھڑلّے کے خرچ پورے ہوسکیں پھر حکومتیں ان کی بھاری تنخواہیں ادا کرنے کے لیے رعایا پر طرح طرح کے ٹیکس لگاتی ہیں اور غریبوں کا خون چوس کر عیش پسند حکام و ملازمین کے شوق پورے کیے جاتےہیں جس سے ملک میں بغاوتیں فساد برپا ہوجاتے ہیں،اسلام نے سادگی سکھائی نہ تم خرچ اپنے بڑھاؤ نہ یہ مصیبتیں اٹھاؤ،رب تعالٰی نے فرمایا:"کُلُوۡا وَاشْرَبُوۡا وَلَا تُسْرِفُوۡا"اور دوسری جگہ فرمایا:"اِنَّ الْمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخْوٰنَ الشَّیٰطِیۡنِ"قربان جائیے اس تعلیم کے لہذا امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بڑی دور اندیشی پر مبنی ہے۔ ۶؎ وہاں تک پہنچانے جاتے جہاں تک آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حکام کو پہنچانے تشریف لے جاتے تھے صورت بھی وہی ہوتی تھی کہ وہ حاکم سوار ہوتے تھے اور امیر المؤمنین پیدل رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔