۱؎ یعنی حاکم و قاضی کس چیز سے فیصلے دے کتاب اﷲ،سنت رسول اﷲ،اجماع امت و قیاس مجتہد۔اور قضاء قبول کرنے سے ڈرے کہ یہ کانٹوں کا بستر ہے،یوں ہی سخت سردی اور سخت گرمی میں فیصلہ نہ کرے۔(مرقات)
حدیث نمبر629
روایت ہے حضر ت ابوبکرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ کوئی حاکم دو شخصوں کے درمیان غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرے ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ کیونکہ غصہ کی حالت میں عقل پرنفس غالب ہوتا ہے جس سے حاکم مقدمہ میں اچھی طرح غوروفکر نہیں کرسکتا،یوں ہی بھوک پیاس،دماغی پریشانی،خاص بیماری میں بھی فیصلہ نہ کرے۔(مرقات و اشعہ)