روایت ہے حضرت ابو شماخ ازدی سے وہ اپنے چچازاد سے راوی ۱؎ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے ہیں کہ وہ جناب معاویہ کے پاس گئے ۲؎ پھر فرمایا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو لوگوں کی کسی چیز کا والی بنایا گیا۳؎ پھر اس نے مسلمانوں یا مظلوموں یا حاجت مندوں پر اپنا دروازہ بندکرلیا۴؎ تو اﷲ اس کی محتاجی اس کی فقیری کے وقت اس پر اپنی رحمت کے دروازے بند کرلے گا ۵؎ جب کہ اسے ان سے سخت محتاجی ہوگی ۶؎
شرح
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ ابو شماخ تابعی ہیں اور ان کے چچازاد بھائی صحابی،ان کا نام معلوم نہ ہوسکا مگر کوئی حرج نہیں تمام صحابہ عادل ثقہ ہیں۔ ۲؎ ظاہر یہ ہے کہ حضرت معاویہ کی دورانِ سلطنت میں گئے یا صرف ملاقات کے لیے اور یہ حدیث تذکرۃً سنا دی یا یہ حدیث ہی سنانے کے لیے،پہلے معنے زیادہ ظاہر ہیں۔ ۳؎ کہ بادشاہ بنادیا گیا یا حاکم۔ولّی ما ضی مجہول ہے لام کے شد سے یا فقط کسرہ سے یعنی باب تفعیل سے یا باب ضرب یضرب سے۔ ۴؎ مظلوم اور ذی الحاجت کے عموم میں ذمی اور مستامن کفاربھی داخل ہیں کیونکہ بادشاہ وحکام پر تمام رعایا کی داد رسی واجب ہے مسلمان ہوں یا کافر۔ ۵؎ دنیا و آخرت میں،اگر لوگ بادشاہ کے محتاج ہیں تو بادشاہ بھی رب تعالٰی کا حاجت مند ہے۔ ۶؎ یعنی جب ایسے بادشاہ کو لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہوئی تو اﷲ اس پر رحمت کے دروازے بندکرلے گا کہ لوگ اس کی مدد نہ کریں گے۔اس حدیث کا نظارہ کرنا ہے تو موجودہ زمانہ میں الیکشن کے وقت ووٹ کی بھیک مانگنے کا نظارہ کرو۔