۱؎ مصنف سے یہاں دھوکا ہوگیا ابن ابی بردہ کی بجائے ابوبردہ فرمادیا جیساکہ ابھی معلوم ہوگا،ان کا نام عبداللہ ابن ابوبردہ ابن ابو موسیٰ اشعری ہے۔(مرقات)
۲؎ صاحب مشکوۃ کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو موسیٰ ابو بردہ کے دادا ہیں حالانکہ وہ ابو بردہ کے والد ہیں لہذا راوی عبد اللہ ابن ابوبردہ ہیں جیساکہ بخاری شریف میں بروایت مسلم ابن ابراہیم ہے۔خیال رہے کہ ابوبردہ کے بیٹے عبداﷲ اور یوسف،سعید اور بلال ہیں کل چار،بلال ابن ابوبردہ بصرہ کے حاکم رہے ان سے روایات بہت کم ہیں،ابوبردہ کا نام عامر ابن عبداﷲ ابن قیس ہے،عبداﷲ ابن قیس کی کنیت ابوموسیٰ ہے،قاضی شریح کے بعد عامر یعنی ابوبردہ کوفہ کے حاکم رہے جن کو حجاج نے معزول کردیا اور ابو موسیٰ اشعری مکہ معظمہ میں ایمان لائے،پھر حبشہ کی طرف پھر مدینہ منورہ ہجرت کی،حضرت عمر نے ۲۰ھ میں بصرہ کا حاکم مقرر کیا،آپ نے اھواز فتح کیا،حضرت عثمان نے منتقل کرکے کوفہ کا حاکم کردیا،آپ قتل عثمانی تک کوفہ رہے پھر مکہ معظمہ چلے آئے حضرت علی کے پنچ بننے کے بعد مکہ معظمہ میں رہے، ۵۲ھ میں وفات پائی۔(مرقات وغیرہ)چونکہ ابوبردہ کے سارے بیٹے ثقہ ہیں لہذا ان میں سے ہر ایک کی روایت مقبول ہے جہالتِ نام مضر نہیں۔
۳؎ ظاہر یہ ہے کہ دونوں بزرگوں کو سامنے بٹھاکر یہ نصیحت فرمائی یا تو ان دونوں کو ایک جگہ کا حاکم مقرر کیا علیٰحدہ علیٰحدہ محکموں کا یا مختلف علاقوں کا حاکم مقرر کیا،یمن پورے صوبہ کا نام ہے۔
۴؎ کیونکہ تم دونوں کا آپس میں جھگڑا رعایا کے جھگڑے وا ختلاف کا سبب ہوگا۔خیال رہے کہ یہاں اختلاف سے مراد جھگڑاوفساد ہے نہ کہ اجتہادی اختلاف،وہ تو صحابہ میں ہوا اور وہ اختلاف رحمت ہے،فرماتے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم اختلاف امتی رحمتی۔