| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ بدعہد کے لیے قیامت کے دن جھنڈا گاڑھا جائے گا تو کہا جائے گا کہ یہ فلاں ابن فلاں کی بدعہدی ہے ۱؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ حدیث بالکل اپنے ظاہری معنے پر ہے۔واقعی بدعہد کے چوتڑوں پر جھنڈا لگا ہوگا یا جہاں بدعہد لوگ کھڑے کیے جائیں گے وہاں ہر ایک کے جھنڈے ہوں گے جن کی بلندی ان کی غداری کے مطابق ہوگی تاکہ ان کی رسوائی ہو۔خیال رہے کہ امت رسول اﷲ کے چھپے گناہ قیامت میں ظاہر نہ کیے جائیں گے علانیہ گناہوں کا وہاں اعلان ہوگا کہ جب انہوں نے خود ہی اپنے کو رسوا کیا تھا تو اب بھی رسوا ہوں لہذا حدیث واضح ہے یہ کہنے والا یا فرشتہ ہوگا جو اعلان کرتا ہوگا یا خود قیامت والے ہوں گے۔