روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب اپنے صحابہ میں سے کسی کو اپنے بعض کاموں کے لیے بھیجتے تھے ۱؎ تو فرماتے تھے کہ خوشخبریاں دو متنفرنہ کرو ۲؎ اور آسانی کروسختی وتنگی نہ کرو ۳؎ (مسلم،بخاری)
۱؎ یعنی کسی کو کہیں کا حاکم بناکر بھیجنا چاہتے تو اسے حسب ذیل ہدایات فرماتے تھے۔روایات میں آیا ہے کہ اس حاکم کو کچھ دور تک پہنچانے بہ نفس نفیس خود تشریف لے جاتے تھے اس طرح کہ وہ جانے والے حاکم سوار ہوتے تھے اور سرکار انور پیدل جہاں تک پہنچاتے تھے،اس جگہ اب مدینہ پاک میں مسجد بنی ہوئی ہے جو سلع پہاڑ کے راستہ میں ہے اسے اب مسجد وداع کہتے ہیں،فقیر نے وہاں نوافل ادا کیے ہیں۔
۲؎ یعنی لوگوں کو گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنے اور نیک اعمال کرنے پر حق تعالٰی کی بخشش و رحمت کی خوشخبریاں دو ان کو گناہوں کی پکڑ پر اس طرح نہ ڈراؤ کہ انہیں اﷲ کی رحمت سے مایوسی ہوکر اسلام سے نفرت ہوجائے۔بہرحال انذار اور ڈرانا کچھ اور ہے،اور مایوس کر کے متنفر کردینا کچھ اور لہذا یہ حدیث ان آیات و احادیث کے خلاف نہیں جن میں اﷲ کی پکڑ سے ڈرانے کا حکم ہے جیسے"وَلِیُنۡذِرُوۡا قَوْمَہُمْ"الخ وغیرہ کہ یہاں مایوس کردینے،نفرت پھیلا دینے کی ممانعت ہے اور وہاں ڈرا کر رب کے دروازے پر لے آنے کا حکم ہے۔
۳؎ اس طرح کہ آسانی کے ساتھ انہیں نمازوزکوۃ وغیرہ احکام شرعیہ کا پابند بنادو،زکوۃ،عشر،خراج وغیرہ آسانی سے وصول کرو بقدر حق وصول کرو۔سبحان اﷲ! کیا پاکیزہ تعلیم ہے۔خیال رہے کہ اس مقدس زمانہ میں حکام کے ذمہ تھا کہ لوگوں کو پابند صوم و صلوۃ،غازی وغیرہ بنائیں ان کی اصلاح کریں،آج کی طرح حکام صرف جرمانے کرنے سختیاں کرنے کے لیے نہ ہوتے تھے وہ حکومت محمدیہ اسلامیہ ہوتی تھی نفسانی یا شیطانی نہ ہوتی تھی،اﷲ تعالٰی کبھی ہم کو بھی اسلام کا راج دکھائے مسلمانوں کا راج تو دیکھ لیا۔