Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
619 - 1040
حدیث نمبر619
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی فرماتا ہے میں اﷲ ہوں،میرے سوا کوئی معبود نہیں میں بادشاہوں کا مالک اور بادشاہوں کا بادشاہ ہوں ۱؎ بادشاہوں کے دل میرے قبضہ میں ہیں اور بے شک بندے جب میری فرمانبرداری کریں گے تو میں ان کے بادشاہوں کے دل ان پر رحمت و الفت سے بھردوں گا ۲؎  اور جب بندے میری نافرمانی کریں گے تو ان کے دل ناراضی و سزا کے ساتھ پھیردوں گا ۳؎ کہ وہ انہیں سخت عذاب چکھائیں گے۴؎  تو تم اپنے کو بادشاہوں پر بددعا کرنے میں مشغول نہ کرو ۵؎ لیکن اپنے کو ذکر و عاجزی میں مشغول کرو تاکہ میں تمہیں بادشاہوں سے کفایت کروں ۶؎(ابو نعیم حلیہ میں)
شرح
۱؎  بعض شارحین نے فرمایا کہ مالک کے بعد ملک فرمانے میں اعلیٰ کی طرف ترقی ہے کیونکہ مالک سے ملک یعنی بادشاہ قوی ہے کہ بادشاہ کی حکومت ہوتی ہے مالک کی حکومت نہیں،نیز مالک ہر چیز کا ہوتا ہے مگر بادشاہ انسانوں کا مگر حق یہ ہے کہ یہاں اعلیٰ سے نزول ہے بادشاہ سے مالک کا قبضہ زیادہ ہوتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیۡنِ"اور فرماتاہے:"قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ"۔مطلب یہ ہے کہ میں بادشاہوں کے ظاہروباطن کا بادشاہ اور مالک ہوں وہ سب مجبورومحکم ہیں ان کے دل وزبان و قلم سب میرے قبضہ میں ہیں۔

۲؎  یعنی اگر عام لوگ اور اکثر رعایا میری مطیع ہوجائے تو میں بادشاہوں کے دل میں رحمت و الفت پیدا کردوں گا۔خیال رہے کہ رافت رحمت سے قوی ہوتی ہے مہربانی کو رحمت کہتے ہیں اور بہت ہی زیادہ مہربانی کو رافت،رب تعالٰی فرماتاہے:"بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ"۔

۳؎  یہاں بھی سخط سے نقمۃ سخت تر ہے،نقمت سے انتقام ہےبمعنی بدلہ لینا۔معلوم ہوا کہ بادشاہوں کی سختی ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے۔

۴؎  یہ قاعدہ اکثریہ ہے اکثر ہمارے بداعمال کی سزا حاکم کا ظلم ہوتا ہے جب اکثریت بدعمل ہوجائے تو سلطان و حکام ظالم ہوتے ہیں پھر ان کے ظلم کا شکار نیک لوگ بھی ہوجاتے ہیں،کبھی رب تعالٰی کی طرف سے آزمائش کے طور پربھی حاکم ظالم مسلط ہوجاتے ہیں لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جناب خلیل اﷲ کو نمرود سے اور موسیٰ علیہ ا لسلام کو فرعون سے اور حضرت حسین کو یزید سے تکالیف کیوں پہنچیں؟وہ حضرات بہت نیک تھے یہ ایسے ہی جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ مَاۤ اَصٰبَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیۡدِیۡکُمْ"۔

۵؎ یعنی ظالم بادشاہوں کی معزولی یا موت کی دعائیں نہ کرو ممکن ہے اس ظالم کے بعد کوئی اور بڑا ظالم ترتم پر مسلط ہوجائے،وجہ ظلم کو دورکرو یعنی گناہوں سے توبہ کرو۔

۶؎  یعنی تم میری اطاعت کرنے لگو حکام تم پر نرم ہوجائیں گے۔شعر

سائیں تیری روٹھ سے میرا آور کرے نہ کوئے		دُر دُر کریں سہیلیاں میں مڑ مڑ دیکھوں توئے

سائیں  انکھیاں   پھیریاں  میرا   ویری  ملک   تمام 		ذرا  سی  جھانکی   مہر  کی   تو لاکھوں کریں  سلام
Flag Counter