۱؎ بھائی سے مراد مسلمان بھائی ہے یعنی جوشخص کسی مسلمان کو بلاقصور تیز نظر سے گھور کر ڈرائے ورنہ قصورمند کو گھورنا ڈرانا ضروری ہے۔
۲؎ یہ حدیث اس باب میں لانے کا مقصد یہ ہےکہ جب کسی کو بلاقصو ر گھو ر کرڈرانا اتنے بڑے وبال کا ذریعہ ہے تو جو ظالم حاکم لوگوں کو ستائے وہ کتنا بڑا مجرم ہوگا۔اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ مسلمان بھائی کو رحمت کی نظر سے دیکھنا ثواب ہے کہ اللہ تعالٰی اسے عنایت کی نظر سے دیکھے گا،یہ بھی معلوم ہواکہ انسان حکومت وسلطنت پاکر فرعون نہ بن جائے ،اپنی مسلمان رعایاکو اپنا دینی بھائی سمجھے اور کافر رعایا کو اپنے دامن کرم میں چھپائے۔
۳؎ یہاں منقطع سے مراد مرسل ہے کیونکہ اس میں صحابی کاذکر نہیں ،وہ صحابی ابو بکرہ ہیں مگر صرف ارسال مضر نہیں کیونکہ مرسل حدیث جمہور کےنزدیک مقبول ہے۔(مرقات)
۴؎ مرقات نے یہاں فرمایا کہ روایات یحیی موضوع ہیں۔خیال ہے کہ روایت مؤنث ہے مگر چونکہ فعیل صفت مشبہ میں مذکر مؤنث یکساں ہیں اس لیے ضعیفہ کہنا ضروری نہیں ضعیف بھی جائز ہے۔