| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ بادشاہ زمین میں اﷲ کا سایہ ہے ۱؎ جس کی طرف اﷲ کے بندوں میں سے ہر مظلوم پناہ لیتا ہے تو اگر انصاف کرے تو اس کے لیے ثواب ہے اور رعایا پر شکر واجب ہے ۲؎ اور جب ظلم کرے تو اس پر بوجھ ہےاور رعایا پر صبر واجب ہے۳؎
شرح
۱؎ سایہ سے مراد رحم وکرم ہے کہ جیسے درخت کے سایہ میں دھوپ سے پناہ لی جاتی ہے ایسے ہی لوگوں کی شر سے سلطان کی پناہ لی جاتی ہے،دنیا میں سلطان پناہ ہے آخرت میں عرش اعظم کا سایہ پناہ ہوگا۔ ۲؎ کیونکہ رحم دل منصف حاکم اﷲ تعالٰی کی بڑی نعمت ہے اور ظاہر ہے کہ شکریہ بقدر نعمت چاہیے شکر سے نعمت بڑھتی ہے۔ ۳؎ یعنی ظالم سلطان سایہ شیطان ہے مگر یہ ارادہ رحمان ایسے ظالم بادشاہ کی بغاوت کرنے کی بجائے اپنے اعمال کی اصلاح کرو کیونکہ بغاوت سے بڑا فساد ہوتا ہے۔