۱؎ یحیی اور یونس کے حالات معلوم نہ ہوسکے،ابواسحق کا نام عمرو ابن عبداﷲ سبعی ہمدانی کوفی ہے،تابعین میں سے ہیں،حضرت علی،ابن عباس،براء ابن عازب اور زید ابن ارقم صحابہ سے ملاقات کی لہذا آپ تابعی ہیں، خلافت عثمانی میں پیدا ہوئے، ۱۲۰ھ میں وفات پائی،آپ کے بیٹے یونس،حفیدہ سفیان ہیں پچانوے یا چھیانوے سال کی عمر ہوئی۔(مرقات و اشعہ)
۲؎ یعنی جیسے تمہارے اعمال ہوں گے ویسے تم پر بادشاہ و حکام مقرر ہوں گے،تم اﷲ کے مطیع ہوتم پر حکام رحمدل منصف ہوں گے،تم رب کی اطاعت سے منہ موڑو گے تو تم پر ظالم و جابر بادشاہ و حکام مسلط ہوں گے، شیخ سعدی نے کیا خوب فرمایا۔شعر
چوخواہد کہ ویراں کند عالمے نہد ملک درپنجہ ظالمے
خیال رہے کہ اس میں لوگو ں کی عام حالت مراد ہے کہ اگر عوام عمومًا بدعمل ہوجائیں تو حکام ظالم ہوں گے اگرچہ خاص خاص لوگ صالحین بھی ہوں لہذا اس حدیث کی بنا پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اگر امام حسین نیک ہوتے تو یزید پلید کیوں مسلط ہوتا،حدیث کی فہم صحیح ضروری ہے۔